مارے گئے جنگجووں کھنموہ کے سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث،شہر کے بعد اب ترال آئے تھے:آئی جی پی کشمیر
سری نگر//جنوبی کشمیر کے آری گام ترال میں بدھ کی صبح سویرے فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان ایک مسلح تصادم آرائی میں لشکر اور انصار عسکری تنظیموں سے وابستہ2مقامی ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں ۔اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجے کمار نے بتایا مارے گئے ملی ٹنٹوں نے سرینگر میں کئی جنگجویانہ کارروائیاں انجام دی ہے جبکہ کھنموہ علاقے میں مارے گئے سرپنچ سمیر احمد بٹ کی ہلاکت میں دونوں ملی ٹینٹ ملوث تھے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق فوج کے 42RR,سی آر پی ایف 179اور ایس او جی نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد آری گام اور آس پاس کے کھیتوں اور باغات کو دوران شب ہی محاصرے میں لیا ہے اس دوران جب صبح ساڑے6بجے کے قریب صبح ہوئی تو پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیم نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔پولیس ذرائع نے بتایاجیسے ہی فورسز علاقے میں پہنچی تو چھپے ہوئے عسکریت پسندوں نے اْن پر فائرنگ کی، جس سے تصادم آرائی کا آغاز ہواجو کچھ مدت تک جاری رہا ہے بتایا جاتا ہے یہ تصادم اس وقت شروع ہوئی جب دونوں جنگجوئوں ایک کھیت سے گزر رہے تھے اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے جس میں ابتدائی فائرنگ میں ایک ملی ٹینٹ مارا گیا ہے جبکہ دوسرا ملی ٹینٹ زخمی حالت میں یہاں سے کچھ دور فرار ہوا تھااس دوران پورا علاقہ مکمل طور محاصرے میں آنے کی وجہ سے زخمی جنگجوئوں زیادہ دور فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا زخمی جنگجوئوں کو تلاش کیا گیا ہے جس دوران کچھ گز کی دوری پر علاقے میں پھر ایک بار طرفین کے درمیان تصادم ہوا ہے جہاں ایک اور جنگجوئوں جاں بحق ہوا ہے ۔ اس طرح سے اس تصادم آرائی میںپولیس نے 2ملی ٹینٹوں کی لاشوں کو برآمد کر لیا ہے ۔ واقعے کے بعد آئی جی پی کشمیر کا حوالہ دہتے ہوئے کشمیر پولیس زون نے ایک ٹویٹ میں لکھاہے کہ پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیم کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو جنگجو، جن کا تعلق انصار غزوات الہند اور لشکر طیبہ سے تھا، مارے گئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’’اے جی یو ایچ (عسکریت پسند) شفات مظفر صوفی عرف معاوزیہ ساکن بٹہ گنڈ ترال اور لشکر طیبہ کے عمر تیلی عرف طلحہ ساکن لدھو پانپور ترال میں مارے گئے‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ترال علاقے میں منتقل ہونے سے پہلے دونوں سری نگر شہر میں کئی (عسکریت پسندانہ) جرائم میں ملوث تھے جن میں کھنموہ سری نگر میں سرپنچ (سمیر احمد) کا حالیہ قتل بھی شامل تھا۔










