ترال میں امیر کبیرؒکا عرس نہیں منایا گیا

امسال عرس منانے کی اجاز ت کا انتظامیہ سے مطالبہ

سرینگر //وادی کشمیر میںگزشتہ 3 سال کے نامسائد حالات کی وجہ سے ترال میں واقع خانقاہ فیض پناہ میں اس مدت کے دوران سالانہ عرس منانے کی اجازت نہیں ملی ہے جس کی عقیدت مندوں نے سخت ناراض گی کا اظہار کیا ہے ۔اس دوران عقیدت مندوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کی ہے حالات میں بہتری کو مد نظر رکھ کر عرس منانے کے جازت کی اپیل کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ترال بالامیں واقع خانقاہ فیض پناہ میں جو، عرس ہر سال چھ زی الحج کو منایا جاتا تھا، گذشتہ دو برسوں کے دوران مختلف قسم کے ناسازگار حالات کی وجہ سے نہیں منایا گیا لیکن اب کی بار ترال علاقے میں یہ مانگ شدت اختیار کر رہی ہے کہ حالات میںبہتری کو مد نظر رکھ کر عرس کی تقریبات منانے کی اجازت کووڈ رہنما خطوط کی پاسداری کے ساتھ مشروط کر کے دی جائے۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ زیارت گاہ پورے کشمیر میں عقیدت کا ایک مرکز مانا جاتا ہے اور یہ زیارت گاہ بانی السلام فی الکشمیر حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کے فرزند نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی تھی اور یہ زیارت گاہ صدیوں سے روحانیت کی ایک آماجگاہ رہی ہے۔ لیکن گذشتہ کئی برسوں کے دوران وادی میں ابھر رہے حالات کی وجہ سے یہاں تبرکات کی نشاندہی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہیں۔یہ درگاہ ہندو مسلم بھائی چارے کی مثال بنی ہوئی ہے اور ہر مزہب اور عقیدے کے لوگ یہاں حاضری دیتے ہیں۔ ہرجیت سنگھ نامی ایک سکھ عقیدت مند نے بتایا کہ امسال عرس کی تقریبات منانے کی اجازت فراہم کی جائے کیونکہ یہ بین المذاہب روایت کا آئینہ دار ہے۔بلال احمد ڈار ایک شہری نے دعویٰ کیا کہ اس عرس کی وجہ سے ہمارا علاقہ وبائی بیماری سے دور رہتا تھا اور موسمی صورتحال بھی ٹھیک رہتی تھی۔ اس لیے اب ہم گزارش کرتے ہیں کہ امسال عرس کی تقریبات دھوم دھام سے منائی جائے۔ادارہ اوقاف ہمدانیہ کے چیرمین مولانا یاسین ہمدانی نے بتایا کہ لوگ عرس منانے کے حوالے سے بضد ہیں لیکن وہ ازخود کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔ انہوں نے انتظامیہ کو اس ضمن میں لکھا ہے اور جونہی وہاں سے کوئی آرڈر آتا ہے وہ عوام کو مطلع کریں گے۔اس دوران ایڈشنل ڈپٹی کمشنر ترال شبیر احمد رینہ نے بتایا کہ عرس کو منانے یا نہ منانے کا فیصلہ اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا گیا ہے اور جلد ہی تصویر صاف ہو جائے گی۔