عبدالعزیز
یہ سچ ہے کہ جو لوگ سچے نہیں ہوتے وہ سچ کے آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔دھو ل ان کے چہرے پر ہوتی ہے اور عمر بھر آئینے کو برا بھلا کہنے میں مشغول ہوتے ہیں :
عمر بھریہی بھول کرتا رہا
دھو ل چہرہ پہ تھی اور آئینہ صاف کرتا رہا
غلام نبی آزاد کو کانگریس ہی کے تجربہ کار اور ان کے ہمعصر لیڈر وں نے ان کے چہرے کا وہ دھول دکھا یا جو کبھی انہوں نے اسے صاف کرنے کی جرا ت محسوس نہیں کی کیونکہ وہی ان کی ترقی کا ذریعہ یا زینہ تھا اسے کیسے ہٹا تے ۔ اسے ہٹا تے تو نیچے گرجا تے۔ کانگریس میں تو اندرا گاندھی کے زمانے سے ہی جتھا بندی یا چنڈال چوکڑی کا غیر معمولی کلچر تھا۔جب سنجے گاندھی سیاست میں داخل ہوئے تو خوشامدیوں کا ٹولہ مزید ترقی پذیر ہوگیا۔ اسی ٹولے میں غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔ کانگریسی رہنما اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوٹ نے ان کو ایک ایک بات یاد دلانے کی کوشش کی اور چند سوال بھی موصوف سے کئے ہیں جس کا آزاد کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ جواب دیں گے تو ان کے ہاتھ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ اشوک گہلوٹ نے انہیں یاد دلایا کہ کیا وہ سنجے گاندھی کے چاپلوسوں میں شامل نہیں تھے ؟ کیا وہ سنجے گاندھی کے چاپلوس نہیں کہلاتے تھے ؟ چاپلوسوں کی یہی ٹیم تھی جو پارٹی اور حکومت دونوں پر کنٹرول کرنے میں ایک حد تک کامیاب تھی۔سنجے گاندھی غیر دستوری طور پر کام کیا کرتے تھے۔اسی ٹیم میں غلام نبی آزاد بھی شامل تھے بہت سارے لوگ کانگریس کے اندر اور باہر سنجے گاندھی کے کاموں کو ناپسند کرتے تھے۔ دے وجے سنگھ آزاد کے ہمعصر وں میں سے انہوں نے تو ایک ایک بات اپنے بیان کے ذریعے آزاد کو آئینہ دکھایا۔ بہت وزنی سوال کیا کہ ’مسٹر پچیس چھبیس سال سے زیادہ برسوں تک راہل گاندھی یا سونیا گاندھی کے کس پی اے یا گارڈ نے انہیں راجیہ سبھا کا ممبر بنایا میرے اور چدامبرم جیسے لوگوں کے رہتے ہوئے راجیہ سبھا میں کس پی اے اور محافظ نے آپ کو لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ سونپا ؟ کیا آپ بتا نے کی ہمت کرسکیں گے ؟
کانگریسی لیڈر یہ بھی کہتے ہیں کہ آزاد قسمت کے دھنی ہیں کہ اندرا گاندھی ‘ راجیو گاندھی ، نرسمہا راؤ ، منموہن سنگھ سب کے دور اقتدار میں وزیر رہے ۔شاید ہی کسی کو اقتدار میں رہنے کا اتنا زیادہ موقع ملا ہو۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے انہیں اقتدار کا مزہ لینے دیا جبکہ راجیہ سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن ہونے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں کچھ بولنے سے بچتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جے رام رمیش نے آزاد کے بارے میں کہا کہ مودیت ان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ غلام نبی آزاد ایک یا دو بار لوک سبھا کے ممبر ہوئے ۔کہا جاتا ہے کہ اپنے بل بوتے پر ایک بھی الیکشن جیت نہیں سکے۔ اتر پردیش اور بہار میں الیکشن انچارج بنائے گئے دونوں جگہوں میں ناکام رہے۔ جموں اور کشمیر کے وزیراعلی بنائے گئے ۔ تقریباً چالیس بیالیس سال تک اقتدار کا مزہ لیتے رہے۔ اس عرصہ میں کئی بار راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے ۔کانگریس چھوڑنے سے پہلے پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے۔ کانگریس کی بدولت ہی اس قدر ان کی عزت افزائی ہوتی رہی اور اقتدار کا مزہ لیتے رہے پھر بھی خط میں رقمطراز ہیں کہ انہیں عزت سے نوازا نہیں جارہا ہے۔ اب وہ نئی پارٹی بنا کر کیپٹن امریندر سنگھ کی طرح بی جے پی کی مدد سے عزت کمانے کی کوشش میں ہیں۔ کیا حشر کیپٹن کا ہوا وہ شاید ان کے ذہن سے محو ہو گیا ہے۔ محبوبہ مفتی صاحبہ نے بھی بی جے پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی آج ان کو اس کاافسوس ہے۔ بہر حال آزاد اپنے کو کہہ رہے ہیں کہ کانگر یس کی غلامی سے آزاد ہوگئے ان کا جوحشر ہونا ہے وہ ان کے سامنے آئے گا۔ لیکن کانگریس کو اپنا احتساب کرنا ضروری ہے کہ آٹھ سال میں ستر افراد پارٹی چھوڑ کر چلے گئے اور سبھی کا معاملہ دوسری پارٹی میں جگہ بنانے کی معلوم ہوتی ہے ۔ان کو اصول اور آئیڈولوجی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ مگر سب نے راہل گاندھی کے غلط طرز عمل کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کو اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی صدر کیلئے زیادہ تر لوگ ان کیلئے ہی اصرار کر رہے ہیں۔ مگر راہل گاندھی راضی نہیں ہیں۔ ضرورت ہے کہ کوئی ایسا شخص صدر ہو جو سب کو ساتھ لے کر چل سکے اور راہل گاندھی آئیں تو انہیں اپنے اندر خاطر خواہ تبدیلی کرنی ہوگی۔










