بیجنگ نے 18 امریکی کمپنیوں کو دیگر جوابی اقدامات کے ساتھ تجارتی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل کیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں فوری طور پر رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔امریکی محصولات کے مسائل کو کم کرنے کے لیے چین تجارتی معاہدوں کو فروغ دینے کے لیے دوسرے ممالک سے رابطہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔چین کے صدر شی جن پنگ آئندہفتہ ملائیشیا سمیت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کا دورہ کریں گے۔بیجنگ کی وزارت تجارت کے مطابق، چین اور یورپی یونین نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ساتھ مشترکہ طور پر کثیر الجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ معاہدہ چین کے وزیر تجارت وانگ وینٹاؤ اور یورپی کمشنر برائے تجارت و اقتصادی سلامتی ماروس سیفکووچ کے درمیان ایک ورچوئل ملاقات کے دوران طے پایا۔دونوں رہنماؤں نے چین اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون میں اضافے اور امریکہ کی جانب سے نام نہاد “باہمی محصولات” کے نفاذ پر ردعمل سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی محصولات نے بین الاقوامی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور یورپی یونین چین سمیت ڈبلیو ٹی او کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت کو معمول پر لانے کو یقینی بنایا جاسکے۔تجارتی محصولات پر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ایسے میں عالمی تجارتی تنظیم نیامریکہ چین تجارت میں 80 فیصد کمی کا امکان ظاہر کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم( ڈبلیو ٹی او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محصولات پر تناؤ سے امریکہ اور چین کے درمیان تجارت 80 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔عالمی تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان محصولات کی مقابلے بازی عالمی معشیت کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈبلیو ٹی او کے مطابق امریکا اور چین کا عالمی تجارت میں حصہ 3 فیصد تک ہے، عالمی معیشت کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے عالمی جی ڈی پی میں 7 فیصد طویل مدتی کمی ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم چہارشنبہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتہ عائد کیے گئے تجارتی ٹیرف میں 90 روز کے وقفے اور چین کے لیے ٹیرف میں مزید اضافے کا اعلان کردیا۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ چین پر عائد تجارتی ٹیرف میں مزید اضافہ کرکے اسے 125 فیصد کررہے ہیں اور اس کا اطلاق فوری پر ہوگا۔ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے اس ٹیرف نے خاص طور پر چین اور امریکہ کے مابین سخت تجارتی جنگ کا آغاز کردیا۔










