بنہ گنڈ ویریناگ میں معاوضہ نہ ملنے پر زمین مالکان نے گراؤنڈ بند کیا، عوام نے تحقیقات کا مطالبہ کیا
سرینگر///بنہ گنڈکبھی جس میدان میں بچوں کی قہقہے گونجتے تھے، ٹیمیں بنتی تھیں اور خواب بُنتے تھے، آج وہی تاریخی کھیل کا میدان سنسان، بند اور ویران پڑا ہے یہ میدان بنہ گنڈ ویریناگ کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں آس پاس کے دیہات سے نوجوان کرکٹ، فٹبال اور دیگر کھیلوں کے لیے آتے تھے۔ وی او آئی نامہ نگار: پیر ذادہ سید فردوس احمدکے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کئی برس قبل کھیل کے لیے حکومت کو دی گئی تھی، اور یہاں نوجوان نسل کی سرگرمیوں کا مرکز قائم ہوا تھا تاہم اب زمین کے مالکان نے گراؤنڈ بند کر دیا ہے، اور ان کا موقف ہے کہ انہیں آج تک حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی زمین واپس لے لی جو ان کا قانونی، اخلاقی اور انسانی حق ہے۔اس پیش رفت پر مقامی عوام اور سماجی کارکنوں کی طرف سے تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ جانچ کی جانی چاہیے کہ زمین مالکان نے پہلے زمین کیوں دی، اور اب واپس کیوں لی؟ اگر معاوضہ طے نہیں ہوا تھا تو زمین حکومت کو کیوں دی گئی؟ اگر طے ہوا تھا تو ادا کیوں نہیں کیا گیا؟”مقامی رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ زمین پہلے کیا سرکاری ریکارڈ میں منتقل ہوئی تھی؟ اگر ہوئی تھی تو اب اسے واپس کیسے لیا گیا؟ کیا قانونی کارروائی عمل میں آئی یا صرف زبانی فیصلے کی بنیاد پر زمین واپس لی گئی۔بچے بے سہارا، گراؤنڈ میں جانور اور خاموشی نہ کرکٹ ہے، نہ فٹبال، نہ کوئی کھیل کا میدان۔ بچے مایوس، پریشان اور بے سہارا نظر آتے ہیں۔ اس وقت اس میدان میں کھیلنے کے بجائے گائیں، بکریاں، آوارہ کتے اور دیگر جانور گھومتے نظر آتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے:ہمیں وہی میدان واپس چاہیے، جہاں ہمارے بچپن کی یادیں بسی ہوئی ہیں، جہاں کبھی کرکٹ کی گیند گونجتی تھی، اور آج صرف خاموشی چھائی ہے۔”مقامی نوجوان عبدالرشید کیلم کا بیان عبدالرشید کیلم نے نمائدہ پیر ذادہ سید فردوس احمد” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:یہ صرف بنہ گنڈ کا کھیل میدان نہیں تھا، بلکہ پورے ڈورو علاقے کے نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز تھا۔ مختلف گاؤں سے لڑکے یہاں کھیلنے آتے تھے۔ لیکن جب زمین کے مالکان کو کوئی فائدہ نہ ملا، تو انھوں نے میدان بند کر دیا — جو ان کا جائز حق ہے۔انہوں نے مزید کہاہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، ڈپٹی کمشنر اننت ناگ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل جانچ کی جائے، زمین مالکان سے بات کر کے انہیں معاوضہ دیا جائے، اور اس میدان کو دوبارہ بچوں کے لیے کھولا جائے۔”عوام نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں زمین کے مالکان سے کوئی ذاتی شکوہ نہیں ہے، بلکہ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرے۔اصل وجہ سامنے آنی چاہیے — زمین پہلے حکومت کو کیوں دی گئی، اور اب کیوں واپس لی گئی؟ اگر واقعی معاوضہ نہیں دیا گیا، تو حکومت کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی اور پہلو ہے تو وہ بھی عوام کو بتایا جائے۔مقامی عوام کی اپیل ہے کہ حکومت اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لے، زمین مالکان سے مشاورت اور تعاون کے ذریعے کھیل میدان کو بحال کرے، تاکہ یہ جگہ ایک بار پھر بچوں کے خوابوں اور خوشیوں کا مرکز بن سکے۔










