dooran

تاریخی ضلع اننت ناگ میں رہائشی علاقے تجارتی علاقوں میں تیزی سے تبدیل

اننت ناگ میں اگلے پندرہ برسوں میں رہائشی کیلئے اراضی مشکل ہوجائے گی

سرینگر// اگلے پندرہ برسوں میں جنوبی کشمیر کا ضلع اننت ناگ میں لوگوں کو رہائشی کیلئے جگہ دستیاب نہیں ہوگی جبکہ قبرستان کیلئے بھی جگہ ملنے مشکل ہوجائے گی کیونکہ جس انداز سے رہائشی علاقے کمرشل علاقوں میں تبدیل ہورہے ہیں اس سے یہاں پر رہائشی کیلئے کہیں بھی اراضی نہیں ملے گی۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی ضلع اننت ناگ میں رہائشی علاقے تیزی کے ساتھ تجارتی علاقوں میں تبدیل ہورہے ہیں جہاں پر مکانات کی جگہ اب دکانیں ، شاپنگ مالز اور ہوٹل بنائے جارہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ رْک نہیں گیا تو اگلے پندرہ برسوں میں رہائشی کیلئے ایک ٹکڑا زمین بھی ملنا مشکل ہوجائے گا۔ ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو رہائشی کیلئے زمین ملنا دور کی بات بلکہ قبرستانوں کیلئے اراضی ملنی مشکل ہوجائے گی اور یہ کشمیری قوم کیلئے ایک بھیانک وقت لائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اننت ناگ میں دیگر قصبہ جات کے مالدار شخصیات اراضی اور رہائشی مکانات مہنگے داموں خریدکر اس پر دکانیں ، شاپنگ مالز اور ہوٹل تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اننت ناگ میں ایک غریب کو اپنے لئے رہائشی حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے پارکوں ، قبرستانوں کیلئے محدود ہے۔ جبکہ اننت ناگ میں فوج، پولیس ، فورسز اور دیگر حفاظتی ایجنسیوں کی تحویل میں اراضی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قبل از وقت اس کیلئے اقدامات نہیں اْٹھائے گئے تو آئندہ پندرہ برسوں میں جو حالات ہوں گے وہ بھیانک اور کافی پریشان کن ہوں گے کیوں کہ اننت ناگ میں رہائشی تو دور کی بات قبرستان کیلئے بھی اراضی ملنی مشکل ہوجائے گی۔