2017میں جامع مسجد سری نگرکے باہر ڈی ایس پی کاشبانہ قتل

تاریخی جامع مسجد سری نگرمیں شب قدر اورنماز جمعتہ الوداع کی نماز کی اجازت نہیں

انجمن اوقاف جامع مسجد،پیپلز الائنس اورنیشنل کانفرنس کے لیڈر عمرعبداللہ کاسخت ردعمل

سری نگر// ایک غیرمعمولی اقدام کے بطور حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ تاریخی جامع مسجدسری نگر میں شب قدر اور جمعتہ الوداع کی باجماعت نمازوں کی اجازت نہ دی جائے۔باجماعت نماز نہ منعقد کرنے کے فیصلے سے انجمن اوقاف جامع مسجد کو آگاہ کیا گیا جو کہ مرکزی جامع مسجد کی انتظامی باڈی ہے۔انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگرنے کہاکہ وہ اس فیصلے کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ اُدھر پی اے جی ڈی کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے انتظامیہ کے فیصلے کوانتہائی افسوسناک قراردیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی حرکتیں لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک مجسٹریٹ کی سربراہی میں سیول ور پولیس حکام نے بدھ کی شام افطار کے بعد مرکزی جامع مسجد سری نگرکے احاطے کا دورہ کیا اور اوقاف کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ حکام نے رمضان کے آخری جمعہ کو جامع مسجد میں جمعتہ الوداع کی اجتماعی نماز کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخی مسجد میں شب قدر پر کسی قسم کی نماز یا شب (رات بھر کی نماز) کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ادھر پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن نے انتظامیہ کی ہدایت کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ اتحاد کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ اقدام ہزاروں لوگوں کو تاریخی مسجد کے اندر باجماعت نماز ادا کرنے سے روک دے گا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ لوگوں کے مذہبی معاملات میںبراہ راست مداخلت کے مترادف ہے، اس لیے یہ اقدام ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔تاریگامی نے کہا کہ پی اے جی ڈی انتظامیہ پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر فوری طور پر نظر ثانی کرے اور لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد ایک تاریخی مقام ہے اور لوگوں کی اس سے گہری عقیدت ہے۔ محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جامع مسجد میں باجماعت نماز پر پابندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اپنے اقدامات سے یہ ثابت کر رہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول سے بہت دور ہیں اور اس کے دعوے کے برعکس ہیں۔ انہوں نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایاکہ یہ بدقسمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات تقریباً نارمل ہیں۔ اگر یہ معمول ہے تو پھر جامع مسجد میں شب اور جمعتہ الوداع (نماز) کی اجازت کیوں نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ حکومت یا تو مصنوعی معمول پیدا کر رہی ہے یا یہاں کے لوگوں کو دبا کر ملک کے باقی حصوں میںتاثر نارمل بیچ رہی ہے۔معمول صرف سیاحت کے ذریعہ نہیں آتا ہے۔ نارمل ہونے کا ثبوت لوگوں کو نارمل زندگی گزارنا ہے۔ نماز کا نہ ہونا ایک غیر معمولی صورت حال کا ثبوت ہے، نہ کہ نارمل حالت کا۔ عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت، اگر اپنے الفاظ سے نہیں، تو اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول سے بہت دور ہیں۔