سرینگر / /عصر حاضر میں والدین اپنے بچوں کے کندھوں پر کمسنی میں ہی کتابوں کا بوجھ ڈالتے ہیںتاکہ پڑھ لکھ کر وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے اورسرکاری نوکری حاصل کرکے والدین اور اپنے اہل وعیال کی زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق پرورش کرسکیں گے ۔لیکن حکومت یا انتظامیہ کی عدم توجہی اور بے حسی بے روز گار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تمام اُمید وں پر پانی پھیرتا ہے۔اب جہاں تک اِن نوجوانوں کی مقرر عمر کی حد برقرار ہوتی ہے۔تو تووہ بیچارے ایمپلائمنٹ دفتروںیا دوسرے دفاتر کا چکر کاٹتے ہیں اور بظاہراخبارات ورسائل اور جرائد کا مطالعہ کرنے کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں۔ تاہم ایمپلائمنٹ نوٹس کو دیکھنے کے لئے ہر روز اخبارات وجرائد کی جانچ پڑتال کرتے رہتے ہیں۔کبھی بنک ڈرافٹ بناکرفارم داخل کرتے ہیں اور کہیں براہ راست متعلقہ دفتر پر جاکر اپنے درخواستیں جمع کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انٹریو کے لئے طلب بھی کئے جاتے ہیں لیکن انٹریو کے دوران یا بعد میں وہ نوجوان اُن سے سبقت لے سکتے ہیں جنہوں نے باہر ریاستوں کی یونیورسٹیوں یا کالجوںمیں ڈگریا ں حاصل کی ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان کے کامیابی کی شرح یہاں کی یونیورسٹیوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ و ہ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے قسمت کو دھتکارتے ہیں جنہوں نے محنت کرکے بڑی مشکل سے وادی کے کالجوں یا یونیورسٹویوںمیں داخلہ لیا ہوتا ہے ،معیا ر تعلیم کے نام پر زیر تعلیم طلبہ کو ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ۔بہرحال اُس وقت تک اُن کی تشنہ گی رہتی ہے۔جب تک عمر کی مقررہ کردہ حد ہوتی ہے۔لیکن جب یہ تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوان عمرکی حد بھی پار کرتے ہیں تو اُن کا جگر پھٹنے کو آتا ہے اور کہیں ایسے خودکشی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود کشی حرام ہونے اور اس پر بتائی گئی وعید سے متعلق پوری جانکاری رکھتے ہیں لیکن اگر حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں یا اُنکے والدین پر کیا بیت جاتا ہے ۔وہ کس پریشانی کی حالت میں پڑے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بے روز گار نوجوانوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ وہ امید کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عمر کا ایک خاص حصہ پڑھائی اور ڈگریاں حاصل کرنے پر گنواں دیتے اور والدین ان کو اس پراپنے خون پسینے کی کمائیصرف کرتے ہیں جس سے وہ گھریلوکاموں اور ضروری تجربوں سے ناواقف ہوتے ہیں وہ تو پڑھ لکھ کر معذور ہوچکے ہیں اور یہ نوجوانوں تعلیم یا ڈگریاں حاصل کرتے کرتے اپنی زندگی کا قیمتی وقت خرچ کرتے ہیں اور بعد میں روز گار کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے اپنا اہم وقت گنواں دیتے ہیں اور آخری لمحات تک ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ تو اپنی روزی روٹی کیلئے پریشان ہیں بلکہ سماج میں بھی اس کے عزت و وقار میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ والدین سے لیکر تمام خیش واقارب تک ان کو ادنیٰ تصور کرتے رہتے ہیں ۔ہر جگہ پر ہورہے تبصروں اور مباحثوں میں ان کی یا تو تذلیل کی جاتی ہے یا بد قسمت ہونے کا الزام صادر فرماتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ شادی کیلئے روز گار کو مشروط بنایا جاتا ہے اوران تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کا شادی کے بندھ میں بندھ جانابھی دشوار بن جاتا ہے اور ان نوجوانوں کو جہاں بے روزگاری ستاتی ہے وہیں سماجی چیلنجزسے ان پر افسردگی چھا جاتی ہے اورلوگوں کے تانے بے روزگار نوجوان پر بارگراں گذرتی ہیں اور وہ خود سوزی یا خود کشی پر اترآتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات سے یہاں کی سرکا روموجودہ گورنر انتظامیہ بخوبی واقف ہے۔انہوں نے کہا کہ دل بہلائی کیلئے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ہر محاذپر سراب ثابت ہوتے ہیں اورٹھیک ہے کہ سرکار نوجوانوںکو لاکھوں کی تعداد میں سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کرسکتی ہیں۔کیا وہ یہاں کے پرائیوٹ سیکٹر کو سمی گورنمنٹ بنا کر بے روزگاروں کے لئے روز گار کے مواقعے تلاش نہیں کرسکتی ہے؟سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کے علاوہ بہت سے ایسے وسائل اور ذرایعے سرکار کے پاس موجود ہیں لیکن بروئے کار لانے کی طرف توجہ مبذول نہیں کی جارہی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوکریوں کا ہرایک کوجھانسہ دینے کے بجائے وسائل کو بروئے کار لاکرپرائیویٹ سیکٹر کو مستحکم بنانے سے بے روزگاری کا خاتمہ ممکن بنائیں ۔تاکہ حقیقی معنوں میں بیروزگار وں کیلئے وسائل پیدا ہوسکیں گے ۔










