گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابات جیتنے میں مدد کرنے والے صرف ایشیا کے سب سے امیر ترین ارب پتی شخص ہی نہیں تھے بلکہ فیس بک نے بھی اس کی جیت میں دوستانہ کردار نبھایا۔مانیٹرنگ کے مطابق بھارت میں قائم ایک غیر منافع بخش میڈیا تنظیم ’رپورٹرز کلیکٹو‘ کی جانب سے کی گئی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سیاسی اشتہارات کا مطالعہ کرنے والے ایک تحقیقی پروجیکٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مارک زکربرگ کے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی کو سستے اشتہارات کی پیشکش کی تھی۔’رپورٹرز کلیکٹو‘ کی تحقیقات کے دوران فروری 2019 اور نومبر 2020 کے درمیان کی مدت کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے۔الجزیرہ نے ’رپورٹرز کلیکٹو‘ کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ 10 میں سے نو انتخابات میں بشمول 2019 کے قومی پارلیمانی انتخابات جن میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی، پارٹی کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں اشتہارات کے لیے کم ریٹ چارج کیے گئے۔جن دیگر انتخابات میں کم ریٹ وصول کیے گئے ان میں اوڈیشہ، اروناچل پردیش، سکم، آندھرا پردیش، ہریانہ، جھارکھنڈ، دہلی، بہار اور مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات شامل ہیں۔
مودی کی بی جے پی کو فیس بک سے فائدہ
فیس بک نے بی جے پی، اس کے امیدواروں اور اس سے منسلک تنظیموں سے ایک اشتہار کو 10 لاکھ بار دکھانے کی اوسط قیمت 41 ہزار,844 روپے (546 ڈالر) تھی، حزب اختلاف کی مرکزی جماعت، انڈین نیشنل کانگریس نے اتنے ہی اشتہارات کے لیے 53 ہزار 776 روپے ادا کیے، جو تقریباً 29 فیصد زیادہ ہیں۔22لیے ماہ کی مدت میں، بی جے پی اور اس سے ملحقہ تنظیموں نے اپنے آفیشل پیجز کے ذریعے فیس بک پر اشتہارات دینے کے 13 لاکھ 6 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جبکہ جبکہ اسی عرصے کے دوران کانگریس نے 8 لاکھ 41 ہزار ڈالر خرچ کیے۔کم قیمت ریٹ نے بی جے پی کو ایک غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے میں مدد کی، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بی جے پی بھارت میں فیس بک کی سب سے بڑی سیاسی کلائنٹ جماعت بھی ہے۔
فیس بک کا مؤقف
فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے ’رپورٹرز کلیکٹو‘کی جانب سے لگائے گئے مخصوص الزامات کا جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کے سیاسی عہدوں یا پارٹی وابستگیوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی پالیسیوں کو یکساں طور پر لاگو کرتے ہیں۔الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی) کے وضع کردہ قوانین میں سیاسی پارٹیوں کے انتخابی اخراجات پر ایک حد تک خرچ کرنے کی شق بھی شامل ہے تاکہ انتخابات میں ہر سیاسی جماعت کو مقابلے کے لیے یکساں مواقع میسر ہوں، تاہم، فیس بک نے بی جے پی کو کم قیمت ریٹس پر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے قابل بنایا ہے۔الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ابھی تک ’رپورٹرز کلیکٹو‘ کے انکشافات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا جبکہ بی جے پی کے ترجمانوں نے بھی ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔










