678مستفیدین کو فائدہ پہنچایا گیا۔ جاوید احمد ڈار
جموں//وزیر برائے زرعی پیداوار جاوید احمد ڈار نے ایوان کو بتایاکہ بیروہ حلقہ اِنتخاب سے تعلق رکھنے والے 678 مستفیدین کو ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی)‘ کے تحت شامل کیا گیا ہے۔وزیر موصوف رُکن اسمبلی ڈاکٹر شفیع احمد وانی کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بیروہ میں باغبانی کی کاشت 3,159.48 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے جس میں سیب، ناشپاتی، آلوبخارا، چیری، خوبانی، اخروٹ، بادام اور دیگر مقامی اقسام شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ حلقے میں زرعی ترقی کو جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) اور دیگر سرکاری سکیموں کے تحت فعال طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران شہد کی مکھیوں کے 30 کالونیاں، ایک ہنی پروسسنگ یونٹ، پولی نیشن کے لئے ایک کامن ہائیو سینٹر (سی ایچ سی) اور زرعی ٹول کِٹس اہل کسانوں کوفراہم کی گئی ہیں تاکہ مگس بانی کو آمدنی کے ایک ذیلی ذریعہ کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔وزیر نے مزید بتایا کہ شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کے سائنسی انتظام کو بہتر بنانے کے لئے تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگرام بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ اِس اَقدام سے زرعی اور باغبانی فصلوں میں پولی نیشن کا عمل بہتر ہوا ہے جس کے نتیجے میں بہتر پیداوار حاصل ہوئی ہے۔اُنہوں نے لیف مائنر بیماری اور زرعی ادویات و فنگس کش ادویات کے اِستعمال سے متعلق ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ سکاسٹ اور یگر تحقیقی سائنسدان ان مسائل کو حل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس طرح کی بیماریوں کے ابھرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔تاہم حکومت اور محکمہ زراعت کسان کمیونٹی کی مددکے لئے بروقت اور ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔










