بیرون ریاستوں میں کشمیریوں کے مبینہ ہراسانی

کانگریس اسمبلی ممبران کا احتجاج ،وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے مداخلت کا مطالبہ

سرینگر//یو این ایس// کانگریس کے ممبران اسمبلی عرفان لون اور افتخار احمد نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے باہر کشمیریوں کے مبینہ ہراسانی کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور اس طرح کے واقعات کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔یو این ایس کے مطابق احتجاج کے دوران عرفان لون نے ایک پمفلٹ اٹھا رکھا تھا جس پر تحریر تھی: ’کشمیریوں کو ہراساں کرنا بند کرو‘جبکہ افتخار احمد بھی اسی احتجاج میں شامل تھے۔ احتجاج اسمبلی کی سیڑھیوں پر کیا گیا اور اس میں راجوری کے ایم ایل ایز نے بھی شرکت کی۔ ممبران اسمبلی نے راجستھان کی ایک یونیورسٹی میں کشمیری نرسنگ طلباء و طالبات کے مبینہ ہراسانی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کو اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلباء ایک کورس کے تسلیم شدہ ہونے کے حوالے سے احتجاج کر رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا اور چار طلباء زخمی ہو گئے۔ ایک خاتون طالبہ کے ساتھ بھی نامناسب سلوک کیا گیا، جس کا وہ نوٹس لینا چاہتے ہیں۔عرفان لون اور افتخار احمد نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور کشمیری طلباء اور شہریوں کے ساتھ اس طرح کے ہراسانی کے واقعات کو بند کرائیں۔