دفعہ 370کا معاملہ ہو ریام مندر یا تین طلاق بی جے پی نے جو کہا وہ کرکے دکھایا :راجناتھ سنگھ
سرینگر//وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے الیکشن منشور میں جو باتیں ہیں ان کو ہم نے پورا کرکے دکھایا ہے چاہئے وہ جموں کشمیر سے 370کی منسوخی کا معاملہ ہو ، تین طلاق کا معاملہ ہوں یا شہری ترمیمی بل کی منظوری کی بات ہو یا رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ ہو ہم نے سبھی باتیں سچ کرکے دکھائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرحدی پوری طرح سے محفوظ ہے اور سرحدوں پر تعینات فوج پر ہمیں فخر ہونا چاہئے جو ہماری سرحدوں کو محفوظ بنارہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت اب مقامی دفاعی صلاحیت کو بڑھاوادے رہا ہے ۔ اگنی ویر کے بارے میں میں انہوں نے بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے ۔سینئر جرنلسٹس سمٹ (ٹائمز نو) سمٹ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت دفاعی سامان اب بھارت میں ہی بنانے کی طرف توجہ دے رہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جٹ طیاروں کے انجن بھی ہم یہاں پر تیار کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کی سرحدیں پوری طرح محفوظ ہیں۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ “ہمیں اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔ میں ہم وطنوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک اور اس کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سے امن کو ترجیح دی ہے تاہم ملک کی سالمیت و سیکورٹی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جاریحانہ کارروائیوں کا جواب دینے کیلئے بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تب بھی ہم صبر سے کام لیتے ہیں ۔ نئی دہلی میںمنعقدہ سینئر جرنلسٹس سمٹ (ٹائمز نو) سمٹ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا چین ہو سبھی ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی بات چیت کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں۔مرکزی وزیرنے کہا کہ بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تب بھی ہم صبر سے کا م لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا بھارت ایسے کاموں میں سنجیدہ ہے کہ مسائل کو ایڈریس کیا جائے کیونکہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات کو جارے رکھنے کیلئے تیار ہیں ۔پڑوسی ممالک سے بھی مثبت ردعمل ملنا لازمی ہے ۔سینئر جرنلسٹس سمٹ (ٹائمز نو) سمٹ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت دفاعی سامان اب بھارت میں ہی بنانے کی طرف توجہ دے رہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جٹ طیاروں کے انجن بھی ہم یہاں پر تیار کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ اگر ضروری ہو تو ان کی حکومت اگنیور بھرتی اسکیم میں “تبدیلی کے لیے تیار ہے”۔ ٹائمز ناو سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگنیوروں کا مستقبل محفوظ ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دفاعی دستوں میں نوجوانی ضروری ہے وزیر دفاع نے اسکیم کا بھی دفاع کیا اور کہا، “سینا میں جوش و ولولہ ہونا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ نوجوان زیادہ پرجوش ہیں۔ وہ زیادہ ٹیک سیوی ہیں۔ ہم نے مناسب خیال رکھا ہے کہ ان کا مستقبل بھی محفوظ ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم تبدیلیاں بھی کریں گے۔ اگنیور نامی بھرتی ہونے والے چار سال کی مدت کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں جس میں چھ ماہ کی تربیت شامل ہوتی ہے جس کے بعد 3.5 سال کی تعیناتی ہوتی ہے۔ سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مسلح افواج میں جاری رہنے کے لیے درخواست دینے کا موقع ملے گا۔جیسا کہ اعلان کیا گیا ہے، ‘اگنی پتھ’ یا ‘ اگنیویر’ اسکیم آرمی، نیوی اور ایئر فورس میں سپاہیوں کی بھرتی کے لیے ایک عمل ہے، جس کو کنٹریکٹ پر چار سال کی مدت کے لیے رکھا جائے گا۔آتم نیر بھر بھارت’ کو ایک بڑے پیمانے پر آگے بڑھاتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت کی نظریں ہندوستان کو انجنوں کے لیے ایک برآمد کنندہ ملک بنانا چاہتی ہیں۔میں نے ڈی آر ڈی او سے کہا ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ ہندوستان میں کس قسم کے انجن بنائے جاسکتے ہیں اور کون سے ممالک ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں، جیسا کہ اب ہم ہندوستان میں انجن بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ہندوستان کو انجنوں کے لیے ایک برآمد کنندہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کے اس دعوے پر کہ چین نے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے انہوںنے بتایا کہ میں سبھی دیش واسیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کی سرحدیں محفوظ ہے ۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے الیکشن منشور میں جو باتیں ہیں ان کو ہم نے پورا کرکے دکھایا ہے چاہئے وہ جموں کشمیر سے 370کی منسوخی کا معاملہ ہو ، تین طلاق کا معاملہ ہوں یا شہری ترمیمی بل کی منظوری کی بات ہو یا رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ ہو ہم نے سبھی باتیں سچ کرکے دکھائی ہے ۔










