بھارت ہمیشہ امن کا خواہاں لیکن ملک کی سالمیت و سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا

بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں / راجناتھ سنگھ

سرینگر//ہندوستان کا دفاعی سازوسامان آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہندوستانیت کے جذبات کے ساتھ اس کو تقویت دینے پر توجہ دے رہی ہے۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کسی ملک کے ساتھ خراب تعلقات نہیں چاہتا اور اگر اس کے دوسرے ملک کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسروں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہاسالانہ دفاعی پیداوار، جو 2014 میں تقریباً 40,000 کروڑ روپے تھی، اب ریکارڈ 1.10 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک پرائیویٹ میڈیا آرگنائزیشن کے زیر اہتمام دفاعی سمٹ میں آج یہ بات کہی۔ انہوں نے موجودہ اور پچھلی حکومتوں کے درمیان ‘ نقطہ نظر’ کو بڑا فرق قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ہندوستان کے لوگوں کی صلاحیتوں پر بھر پور یقین رکھتی ہے، جب کہ اس سے پہلے جو لوگ اقتدار میں تھے وہ ا ن کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی مینوفیکچرنگ میں ’آتم نیربھرتا‘ کو فروغ دینے کو حکومت کی طرف سے لائی گئی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا، جو ہندوستان کے دفاعی شعبے کو ایک نئی شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی صنعتی راہداریوں کے قیام سمیت خود انحصاری کے حصول کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات کا ذکر کیا۔ ان فیصلوں کی وجہ سے دفاعی شعبے پر پڑنے والے مثبت اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ سالانہ دفاعی پیداوار، جو 2014 میں تقریباً 40,000 کروڑ روپے تھی، اب ریکارڈ 1.10 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ آج دفاعی برآمدات 16,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں جو نو دس سال پہلے ایک ہزار کروڑ روپے تھی۔ ہم نے 2028-29 تک 50,000 کروڑ روپے کی برا?مدات حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔رکشا منتری نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے عوام کے وڑن کے مطابق ملک کے دفاعی نظام کو حکومت نے ایک نئی توانائی کے ساتھ ابھارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہندوستان ایک مضبوط اور خود انحصار فوج کے ساتھ عالمی سطح پر ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرا ہے۔آج ہماری افواج مرکز میں ایک طاقتور قیادت کی وجہ سے مضبوط قوت ارادی کی مالک ہیں۔ ہم فوجیوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ہماری افواج کسی بھی ایسے شخص کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں جو بھارت پر بری نظر ڈالتا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ حکومت نے نوجوانوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور ان کی اختراع کو فروغ دیتے ہوئے نجی شعبے کو ایک مثالی ماحول فراہم کیا ہے۔ اگر ہمارے نوجوان روشن دماغ ایک قدم آگے بڑھیں تو ہم 100 قدم اٹھا کر ان کی مدد کریں گے۔ اگر وہ 100 قدم بڑھائیں گے تو ہم 1000 قدم آگے بڑھائیں گے۔انہوںنے کہا کہ ہندوستان کی تصویر بدل گئی ہے۔ ہندوستان کا وقار بہتر ہوا ہے۔ اگلے چند سالوں میں، دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی تین معیشتیں بننے سے نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہندوستان کے کسی ایک ملک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوں گے۔