دس برسوں میں بھارت سے صرف 18 ٹن نایاب زمینی معدنیات برآمد کی گئیں
سرینگر// رکزی وزیر برائے ارتھ سائنسز ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا ہے کہ بھارت کے پاس نایاب زمینی عناصر کے تقریباً 8.52 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور دفاعی صنعت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 7.23 ملین ٹن نایاب عناصر، 13.15 میٹرک ٹن مونازائٹ میں پائے گئے ہیں، جو بھارت کے ساحلی علاقوں، سرخ و تیری ریت اور آندھرا پردیش، تمل ناڈو، اوڈیشہ، گجرات اور کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، 1.29 میٹرک ٹن نایاب زمینی معدنیات گجرات اور راجستھان کی سخت چٹانی زمینوں میں موجود ہیں۔ڈاکٹر سنگھ کے مطابق، اٹامک منرلز ڈائریکٹوریٹ اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نایاب زمینی عناصر کی تلاش اور ان کے ذخائر میں اضافے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ جی ایس آئی نے اب تک 34 ایکسپلوریشن منصوبوں میں 482.6 میٹرک ٹن نایاب معدنی وسائل دریافت کیے ہیں۔وزیر نے مزید بتایا کہ گزشتہ دس برسوںمیں بھارت سے صرف 18 ٹن نایاب زمینی معدنیات برآمد کی گئیں جبکہ اس عرصے میں کوئی درآمد نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ ان ممالک کی برآمدی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے بھی فعال ہے جنہوں نے نایاب زمینی میگنیٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق، جوہری توانائی کے پرامن استعمال اور نایاب معدنی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے بھارت نے آسٹریلیا، ارجنٹائن، زیمبیا، پیرو، زمبابوے، موزمبیق، ملاوی، کوٹ ڈی آئیور اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی سمیت متعدد اداروں کے ساتھ دوطرفہ معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے بھارت کی معدنیاتی سپلائی چین کو محفوظ اور لچکدار بنانے کے لیے اہم ہیں، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں، توانائی اور دفاع جیسے شعبوں میں۔










