محبوبہ مفتی کی تجویز ’’ڈکسن پلان‘‘ کے مترادف، مزید تقسیم حماقت//ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر/یواین ایس// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے بھارت کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے گولیاں کھائی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ این سی خطے میں دوبارہ پتھراؤ اور دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں میں پارٹی کے دو روزہ کنونشن کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا’’بدامنی پھیلانے والے ہم نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ایسے الزامات لگا رہے ہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘انہوں نے جموں و کشمیر کی مزید تقسیم کے مطالبات کو’بے وقوفانہ اور لاعلمی پر مبنی‘قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس نہ تو جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی حامی ہے اور نہ ہی لداخ کی علیحدگی کو درست سمجھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن لداخ دوبارہ جموں و کشمیر کا حصہ بنے گا۔فاروق عبداللہ نے پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے علیحدہ ڈویژن بنانے کے مطالبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ’ڈکسن پلان‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ریاست کو تقسیم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ریاست کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔مزید اضلاع بنانے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ موجودہ اضلاع کافی ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ بہتر طریقے سے کام کرے۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے بے روزگاری سے متعلق تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن اپنی کارکردگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان سے مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کو بدلا نہیں جا سکتا اور میڈیا میںپاکستان فوبیا پیدا کیا جا رہا ہے، جبکہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بھی یہی کہہ چکے ہیں کہ پڑوسی ہمیشہ رہتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے چناب اور پیر پنجال خطوں کے لیے الگ الگ ڈویڑن قائم کرنے کی مہبوبہ مفتی کی تجویز کو ’’ڈکسن پلان‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرانا منصوبہ ہے جس کا مقصد دریائے چناب کی بنیاد پر تقسیم کر کے ایک جانب گریٹر کشمیر ویلی قائم کرنا اور دوسری جانب خطے کو الگ کرنا تھا۔انہوںنے کہا کہ بہت سے لوگ ریاست کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ جموں و کشمیر کی وحدت کی حامی رہی ہے۔ لداخ کی علیحدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق آج خود لداخی عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ یونین ٹیریٹری کا درجہ نہیں چاہتے اور دوبارہ الحاق کے خواہاں ہیں۔










