روس،یوکرین اور ایران،اسرائیل جنگوں سے سبق، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ انتہائی لازمی// راجناتھ سنگھ
سرینگر/ یو این ایس//بھارت کو ڈرون مینوفیکچرنگ کے میدان میں ایک مضبوط اور خود کفیل نظام قائم کرنا ہوگا۔ یہ بات وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہی، جہاں انہوں نے عالمی تنازعات خصوصاً روس،یوکرین اور ایران،اسرائیل جنگوں سے سبق حاصل کرنے پر زور دیا۔یو این ایس کے مطابق نیشنل ڈیفنس انڈسٹریز کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان جنگوں نے ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا،’’آج پوری دنیا روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل کے حالات کو دیکھ رہی ہے، جہاں ہم مستقبل کی جنگوں میں ڈرونز اور ان کے خلاف استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا انتہائی اہم کردار واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں ایسا ڈرون مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں مکمل خود انحصاری حاصل ہو۔کانکلیو میں ملک کی سرکردہ دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور سرکاری دفاعی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کی دفاعی تیاری اور اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ملک ڈرون مینوفیکچرنگ میں مکمل طور پر خود کفیل بنے۔انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)، روبوٹکس اور دیگر اہم شعبوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ان کے مطابق،’’آج کے دور میں آٹومیشن، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسی ایجادات دنیا بھر میں مینوفیکچرنگ کے عمل کو تبدیل کر رہی ہیں، جبکہ سمولیشن ٹیکنالوجی بھی نئی راہیں کھول رہی ہے۔‘‘راجناتھ سنگھ نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ خود انحصاری صرف مصنوعات کی سطح پر ہی نہیں بلکہ پرزہ جات کی سطح پر بھی ہونی چاہیے، یعنی ڈرون کے سانچے (مولڈ) سے لے کر سافٹ ویئر، انجن اور بیٹری تک ہر چیز بھارت میں تیار ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہدف حاصل کرنا آسان نہیں کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک جہاں ڈرون تیار کیے جاتے ہیں، وہاں کئی اہم پرزہ جات کسی مخصوص ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔










