ماضی کے رویے کو بدل نہیں گیا تو اس کے دو طرفہ تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے/ ایس جئے شنکر
سرینگر// بھارت دہشت گردی سے پاک پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ لیکن اگر وہ یہ نہیں دکھاتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے رویے کو بدل رہا ہے، تو اس کے دو طرفہ تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ سی این آئی کے مطابق لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ایسے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے جو دہشت گردی سے پاک ہوں لیکن اگر وہ یہ نہیں دکھاتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے رویے کو بدل رہا ہے، تو اس کے دو طرفہ تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ سال2019 میں پاکستان کے بعض فیصلوں کی وجہ سے تجارتی تعلقات میں خلل پڑا تھا۔ انہوں نے کہا ’’ میں معزز ممبر کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے معاملے میں، ہم کسی دوسرے پڑوسی کی طرح، ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ لیکن، کسی دوسرے پڑوسی کی طرح، ہم بھی دہشت گردوں سے پاک تعلقات چاہتے ہیں۔ ‘‘ جے شنکر نے کہا کہ یہ حکومت ہند کا موقف رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ پاکستانی فریق کیلئے ہے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ وہ ماضی کے اپنے رویے کو تبدیل کر رہے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو یقیناً اس کے تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔انہوں نے کہا ’’لہٰذا اس حوالے سے گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘۔ مرکز کی جانب سے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ سیکورٹی فورسز لداخ کے ڈیپسانگ میں تمام گشتی مقامات پر جائیں گی اور مشرقی حد تک بھی جائیں گی جو تاریخی طور پر ہندوستان کی گشت کی حد ہے۔انہوں نے کہا ’’ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذکر میرے (پچھلے) بیان (پارلیمنٹ میں) میں کیا گیا تھا کہ اس مفاہمت میں یہ تصور کیا گیا تھا کہ ہماری سیکورٹی فورسز ڈیپسانگ میں تمام گشتی مقامات پر جائیں گی، اور مشرقی حد تک جائیں گی جو تاریخی طور پر ہماری رہی ہیں۔ اس حصے میں گشت کی حد میں ہے ۔ ‘‘










