baharat jodo

بھارت جوڑو یاترا کا سائڈ ایفکٹ

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

راہل گاندھی کی کنیا کماری سے کشمیر تک کی بھارت جوڑو یاترا ختم ہوگئی ہے۔ اس یاترا کے درمیان بھی اور اس کے بعد بھی یہ تجزیہ کیا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی کیا جائے گا کہ اس یاترا کے کیا نتائج برآمد ہوئے یا ہوسکتے ہیں۔ لوگوں کا خاص فوکس اس بات پر ہے کہ اس سے انتخابی نتائج پر کیا اثرات پڑیں گے۔ اور کیا صرف ایک علامتی یاترا سے ملک کا ماحول بدل جائے گا۔ راہل گاندھی کی لیڈرشپ تسلیم کرلی جائے گی۔ میں اس یاترا کے نتائج کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کرسکتا ہوں۔ لیکن چند باتیں ایسی ضرور ہوتی ہیں جن کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔
(۱) بھارت کے سماجی ماحول میں نفرت کی جو تیز ہوا چل رہی تھی یقینا اس میں دھیما پن دیکھنے کو مل رہا ہے اور نفرت اور تشدد کی باتیں کرنے والوں کے سُر بدلے ہیں۔
(۲) میڈیا کے لب و لہجہ میں بھی کچھ نرمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور اس کی جارحیت میں تھوڑا بدلاؤ محسوس ہوتا ہے۔
(۳) کورپوریٹ جو آنکھ بند کرکے سرکار کی حمایت کررہی تھی اس نے بھی تھوڑا دوسرا انداز سے سوچنا شروع کردیا ہے۔
(۴) سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر کی وجہ سے ماحول بدل رہا ہے اور لوگ سرکار سے سوال پوچھنے کی ہمت کررہے ہیں۔
(۵) عدلیہ نے بھی اپنی آزادی کو باقی رکھنے میں اپنی مزاحمت بڑھا دی ہے۔
(۶) سول سوسائٹی پھر سے ایک بار مضبوط ہوکر سامنے آرہی ہے۔
(۷) سیاسی پارٹیوں پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ 2024کا الیکشن ساجھا سمجھداری کے ساتھ لڑیں۔
(۸) سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر سال گاندھی جینتی کے موقع پر گوڈسے کو زندہ کردیا جاتا تھا اور گاندھی کا پتلا بناکر اور غبارے میں رنگ بھر کر اس پر گولی چلائی جاتی تھی اور اس طرح گاندھی کو ہر سال مارنے کی کوشش کی جاتی تھی، اس بار 30 جنوری کو کہیں سے اس طرح کی ناخوشگوار حرکت کی کوئی بات سنائی نہیں دی۔
(۹) حکومت اور سنگھ نے نفرت اور بائیکاٹ کرنے والوں کی سرزنش کرکے ان کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔
(۱۰) آخری اور اہم بات حکومت اور سنگھ دونوں کی طرف سے سبھی نہیں تو کم سے کم پسماندہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش دیکھنے کو مل رہی ہے۔
یہ چند ایسی باتیں ہیں جو نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت باقی رہے۔ دستو رکی حکمرانی مستحکم ہو۔ انسانی حقوق کی حفاظت ہو۔ کس کو کمزور اور گنتی میں کم سمجھ کر ستایا اور دبایا نہ جائے۔ ملک سے موجودہ نفرت اور تشدد کا ماحول ختم ہو۔ اور ملک کے ہر شہری کو عزت،آزادی اور امن کے ماحول میں جینے کا موقع ملے۔ ایک بات طے ہے کہ ملک میں نفرت اور تشدد کا جو ماحول پیدا کیا گیاتھا وہ کسی فرنج ایلیمنٹ کا کام نہیں تھا، یہ سب کچھ حکمراں جماعت اور سنگھ کے اشارے پرہوتا تھا۔ اس لیے اگر سنگھ چاہے تو یہ صورتحال ختم ہوسکتی ہے۔ اس بار سنگھ نے نہیں چاہا تو گاندھی کی ہتیا کا ڈرامہ نہیں رچا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ راہل گاندھی کی نفرت کے بازار میں محبت کی دوکان کھولنے کا اثر ہے۔ اب یہ دوکان کتنی چلے گی اس کے لیے دیکھنا ہوگا کہ دکان میں کیا سب کی ضرورت کا سامان ہے۔ دوکاندار اور اس کے کارکنان کتنی سرگرمی سے اپنے گراہکوں کی خدمت کرتے ہیں اور کتنے لوگ اس دوکان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کچھ مثبت اثرات کے آثار تو نظر ضرور آتے ہیں۔
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل