بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی مدعا نہیں اس لئے غیر ضروری معاملات کو اجاگر کررہی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی مدعا نہیں اس لئے غیر ضروری معاملات کو اجاگر کررہی ہے

بی جے پی ہندئوں کی ٹھیکہ دار نہیں ، جموں صوبہ کو بھر پور نمائندگی حاصل ہے /تنویر صادق

سرینگر//اے پی آئی// وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر کے ہر طبقے کے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنے کے اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور زیڈی بل حلقے کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندئو مذہب کی ٹھیکہ دار نہیں ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہندئو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کھیل ، صحت اور تعلیم کو کسی بھی صورت میں مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہئے تاکہ ان شعبوںمیں خدمات انجام دینے والوںکو مشکلوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان رجنی سیٹھی کے بیان اور جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی پر پلٹ وار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور زیڈی بل حلقے کے ممبر اسمبلی تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی مدعا نہیں ہے اس لئے وہ ایسے حربے اٹھارہی ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام کو تقسیم دھر تقسیم کیا جائے ۔ زیڈی بل حلقے کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی الزام لگارہی تھی کہ جموں صوبہ کو نمائندگی نہیں دی جارہی ہے تاہم نیشنل کانفرنس نے 2024کے اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد جموں صوبہ کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دے دیا اور جموں صوبہ کو ہر ممکن نمائندگی دینے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔ بی جے پی کے پاس کوئی بھی مدعا نہ ہونا کا اظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ بہتان تراشی کا بی جے پی نے سلسلہ شروع کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ دونوں صوبوں کی یکساں ترقی کے خواہشمند ہیں اور جموں صوبہ کو بجٹ کے مطابق جو رقومات ملے ہیں وہ یقین سے زیادہ ہیں ۔ وادی کشمیر کے کھلاڑیوں کو نیشنل گریمز کیلئے منتخب کرنے اور جموں صوبہ کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ کھیل ،تعلیم اور صحت میں مذہب کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے ۔ اگر وادی کے کھلاڑی منتخب ہوئے وہ میرٹ پر آگے آگئے ۔ جموں صوبہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوںکو بھی اہمیت دی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس سے پہلے بی جے پی نے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلہ کا مدعا اٹھایا اور صرف ہندئو طالب علموں کو داخلہ دینے کا مطالبہ کیا کیا اُن کا یہ مطالبہ حقائق پر مبنی ہے ۔انہوںنے کہا کہ مذہب کو کھیل ، صحت اور تعلیم میں بنیاد بنانا کسی بھی طور جائز نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی ہندئوں کی ٹھیکہ دار نہیں ہے ۔نیشنل کانفرنس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہندئو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیشنل کانفرنس مذہب کی بنیاد پر لوگوں کیلئے خدمات انجام دے گی ۔ پی ڈی پی کی جانب سے عوام کے ساتھ ملاقات مہم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ خدا کرے کہ یہ ملاقات پی ڈی پی اور جموں وکشمیر کے عوام کیلئے سود مند ثابت ہو ۔ 2014میں بھی اس پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو دوررکھنے کیلئے لوگوں سے ووٹ حاصل کئے اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہی گڑ جوڑ کر کے حکومت تشکیل دی ۔ اب یہ ملاقات مہم جموں وکشمیر کی تباہی کا باعث نہ بنے ۔