سری نگر//جموں و کشمیر ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے دو سال مکمل ہونے پر وادی کشمیر اور جموں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس دوران جہاں حکمران جماعت بی جے پی اس کامیابی کو لیکر جشن منا رہی رہی وہی یہاں کی مقامی سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تبدیل کے کر2یونین ٹرٹری میں تبدیل کرنے کوآج یعنی5 اگست کو دو سال مکمل ہوئے ہیں۔اس دوران سرکار اور پولیس انتظامیہ نے کسی امکانی گڑبڑ کو ناکام بنانے کے لئے پورے جموں و کشمیر میں فورسز کو متحرک کیا ہے جس دوران چار اگست کت صبح سے ہی جموں و کشمیر میں شمال و جنوب میں متعدد مقامات پر بدھ کی صبح سے ہی جگہ جگہ پر فورسزاہلکاروں کو دیکھا گیا ہے جہاں حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں کے مطابق وادی میں تقریباً ہر ایک جگہ پر فورسز کے کو متحرک دیکھا گیا ہے جو جگہ جگہ مسافروں گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے ۔خیال رہے گزشتہ سال5اگست کو سیکورٹی ایجنسیوں کو کچھ اطلاع کے بعد کرفیو نا فذ کرنا پڑا تاہم امسال تاحال اس طرح کا کوئی امکان نظر نہیں آیا ہے تاہم فورسز کسی بھی چلینج کا مقابلہ کر نے کے لئے تیار ہے ۔ادھر اس دن کے حوالے سے ایک جعلی ٹویٹ کو بھی وائرل کیا گیا ہے جس میں 5یعنی آج اور15اگست کے روز مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی تاہم پولیس نے اس حوالے ٹویٹ کو شئیر کرنے سے لوگوںسے پرہیز کرنے کی اپیل کی ہے ۔اور خلاف ورزی کرنے والوںاکے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو گئی ۔ ادھر جہاں اس دن کو بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتیں جشن منارہے ہیں وہی پی ڈی ،اور گپلار ایلائنس کے کچھ لیڈران نے اس دن کو سیاہ دن کے طور منانے کا اعلان کیا ہے ۔ پی ڈی پی کے سینئر لیڈر روئف بٹ نے بتایا کہ’’ اس دن کو یہاں جمہوریت کا جنازہ اٹھایا گیا ہے۔اور اس آئینی دفعہ کوغیر جمہوری طرز پر ختم کیا گیا ہے ۔‘‘ادھرسی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر اور گپکار ایلائنس کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے بتایاجو لوگ جشن منانے رہیں وہ منائیں لیکن ہمارے لئے یہ دن سیاہ دن ہے جس دن جمو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کیا گیا ہے ۔خیال رہے جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے دفعہ370کو 5اگست2019کو ختم کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ریاست کو دو یوٹی جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کیا گیا ہے ۔










