ٹیکنیکل اسسٹنٹ 40 ہزار روپے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار
سرینگر/یواین ایس / انسداد بدعنوانی بیورو نے جمعرات کو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک سرکاری ملازم کو مبینہ طور پر 40 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔حکام کے مطابق گرفتار ملازم کی شناخت سجاد احمد رینہ ولد رحیم رینہ ساکن کرالواڑی چاڈورہ کے طور پر ہوئی ہے، جو بلاک ڈیولپمنٹ آفس پرنیا، خانصاحب میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر تعینات تھا۔ذرائع نے بتایا کہ اے سی بی نے یہ کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد انجام دی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ ملازم سرکاری کام کو آگے بڑھانے کے لیے رشوت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شکایت کی تصدیق کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے مقدمہ درج کر کے ایک جال بچھایا۔یو این ایس کے مطابق اسی دوران ملزم کو شکایت کنندہ سے 40 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی کے دوران رشوت کی رقم بھی آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کے قبضے سے برآمد کر لی گئی۔حکام نے بتایا کہ اس سلسلے میں اے سی بی سینٹرل کشمیر میں ایف آئی آر نمبر 6/2026 درج کی گئی ہے اور ملزم کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی بیورونے میونسپل کمیٹی سمبل، حاجن اور بانڈی پورہ کے سابق ایگزیکٹو آفیسر عبدالرشیداور تین دیگر افراد کے خلاف انسداد بدعنوانی عدالت بارہمولہ میں چوتھی چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔ عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل 2026 مقرر کی ہے۔اے سی بی حکام کے مطابق یہ کارروائی سمبل بانڈی پورہ کے رہائشی محمد یوسف کی جانب سے دائر شکایت کے بعد شروع کی گئی جس میں ملزم پر بدعنوانی، آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے اور میونسپل کمیٹی بانڈی پورہ، حاجن اور سمبل میں مبینہ غیر قانونی و جعلی تقرریاں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے خفیہ جانچ شروع کی جس کے نتیجے میں ملزم عبدالرشید شاہ کے خلاف چار مختلف مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں تین مقدمات میونسپل کمیٹی سمبل، حاجن اور بانڈی پورہ میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق ہیں جبکہ دو مقدمات ان کے بھتیجے جاوید احمد شاہ، جو اس وقت میونسپل کمیٹی بانڈی پورہ میں جونیئر اسسٹنٹ تھا، کے خلاف جعلی میوٹیشن اور آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملات پر درج کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق تحقیقات کے دوران اے سی بی کو معلوم ہوا کہ ملزم سرکاری ملازم نے بدعنوانی کے ذریعے اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ جائیدادیں اور اثاثے جمع کیے۔ ان اثاثوں میں بانڈی پورہ کے گاؤں پاپچن میں دو منزلہ رہائشی مکان اور اس کے ساتھ اضافی تعمیرات، متعدد اراضی کے پلاٹس، بانڈی پورہ میں تین منزلہ شاپنگ کمپلیکس اور سرینگر کے غازی آباد ایچ ایم ٹی علاقے میں ایک دو منزلہ مکان شامل ہیں۔اسی طرح تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے بانڈی پورہ کے مختلف علاقوں میں کئی کنال زمین خریدی جبکہ جموں کے سدھرا بائی پاس پر اپنی اہلیہ افروزہ بانو کے نام بھی متعدد پلاٹس خریدے گئے۔ اس کے علاوہ ایک ماروتی اے اسٹار کار اور دیگر قیمتی اشیاء بھی ضبط کی گئیں۔گھر کی تلاشی کے دوران متعدد مہنگی اشیاء بشمول ٹیلی ویڑن، ریفریجریٹر، واشنگ مشین، کمپیوٹر، انورٹر، پشمینہ شالیں، کیمرے اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔ تحقیقات میں جے اینڈ کے بینک، جے کے گرامین بینک اور پنجاب نیشنل بینک کی مختلف شاخوں میں موجود بینک اکاؤنٹس، سونے کے زیورات کی خریداری، گھروں کی تزئین و آرائش اور بچوں کی تعلیم پر ہونے والے اخراجات کا بھی جائزہ لیا گیا۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اے سی بی نے عدالت میں چارج شیٹ پیش کی جس میں عبدالرشید شاہ کے علاوہ ان کی اہلیہ افروزہ بانو، سیف الدین بابا ساکن دونی واری کپواڑہ اور سمیع احسن شاہ ساکن پاپچن بانڈی پورہ کو بھی شریک ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ملزمان کے خلاف جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ 2006 کی متعلقہ دفعات، پبلک مین اینڈ پبلک سرونٹس (اثاثہ جات کے اعلان) ایکٹ 1983 اور رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اے سی بی کے مطابق کیس کی مزید کارروائی انسداد بدعنوانی عدالت بارہمولہ میں جاری رہے گی جبکہ اگلی سماعت 28 اپریل 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔










