ماہ رمضان میں بھی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے سلسلے میں زمینی سطح پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے،بجلی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی پر لوگ سڑکوں پرآنے کیلئے مجبور رہو رہئے ہیں جبکہ لوگوں کو راشن کی عدم دستیابی کے خلاف بھی کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ کی لہر ہائی جا رہی ہے ۔ماہ رمضان میں لوگوں کو تمام تر بنیادی سہولیات بہم رکھنے کے سرکاری دعوئوں کے بیچ وادی کے اطراف و اکناف میں لوگوں کو بجلی ، پانی اور راشن کی عدم دستیابی کو لیکر کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ماہ مقدس کے ان ایام میں بھی افطاری اور سحری کے اوقات لوگوں کو بجلی کی سپلائی میسر نہ ہونے کے باعث کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گرمیوں کے ان ایام میں بھی پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقنی بنانے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے زمینی سطح پر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوںمیں ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔ماہ مقدس میں بھی لوگوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث لوگ سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں ۔ اسی دوران وادی کے کئی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور پی ای ای محکمہ وادی کے عوام کو بنیادی ضرورت فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوتا جارہا ہے جبکہ طبی سہولیات کا فقدان اس قدر پایا جارہا ہے ۔ادھر بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف وادی کے شمال و جنوب میں صارفین میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے اور انہوں نے محکمہ بجلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کم سے کم سحری اور افطار ی کے اوقات بجلی کی بنا خلل دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔










