ڈھاکہ/ایجنسیز// ہندوستانی کی خانگی ایئر لائن اسپائی جیٹ کو بقایاجات کی عدم ادائیگی کے باعث بنگلہ دیش کی فضائی حدود تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد کولکتہ سے شمال مشرقی بھارتی شہروں جانے والی پروازیں متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ بنگلہ دیشی اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام مالی واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب اٹھایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی جریدے ڈیلی سن اور ہندوستانی اخبار دی اکنامک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ کولکتہ سے گوہاٹی اور امفال سمیت دیگر شمال مشرقی شہروں کے لیے پروازوں کو اب طویل فضائی راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف پرواز کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے ایئر لائن کے آپریشنل اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسپائس جیٹ پہلے ہی گزشتہ چند مہینوں سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ کمپنی کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ ڈسمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی رپورٹ میں تقریباً 269.27 کروڑ ہندوستانی روپے کے نقصان کا انکشاف کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قرض، آپریشنل اخراجات اور مسابقتی دباؤ نے کمپنی کی مالی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان حالیہ سفارتی تناؤ نے بھی فضائی معاملات کو متاثر کیا ہے۔










