covid

بنگلورومیں کووڈ 19کی ایک اور قسم BA.2پائی گئی

دلی میں کووڈ وائرس کے مثبت معاملات میں اضافہ کے چلتے چوتھی لہر کا اندیشہ ظاہر کیا

سرینگر//بنگلورو میں کووڈ 19کی ایک اور ویرنٹ BA.2دریافت ہوا ہے جس کے چلتے ماہرین نے بھارت میں ایک اور لہر یعنی کووڈ 19کی چوتھی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ ادھر ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ 21 اپریل 2022 تک، ڈبلیو ایچ او کے یورپی خطے کے 11 ممالک اور ڈبلیو ایچ او امریکی خطے کے ایک ملک سے نامعلوم اصل کے شدید ہیپاٹائٹس کے کم از کم 170 معاملے سامنے آئے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت میں کووڈ 19کے نئے معاملات میں اضافہ کے ساتھ ہی بنگلورومیں کووڈ 19کی نئی قسم BA.2کا پتہ لگا ہے ۔ اس نئی ویرینٹ اور دلی میں کووڈ کے مثبت معاملات تجاوز ہونے کے بعد ماہرین نے ملک میں کووڈ کی چوتھی لہر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔ بنگلوروں میں انتظامیہ نے اس نئی قسم سامنے آنے کے بعد ہیلتھ شعبہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ ایس او پیز پر سخت سے عمل کریں ۔ دریں اثناء عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بچوں میں نامعلوم قسم کے ہیپاٹائٹس کے تقریباً 170 معاملوں کی اطلاع دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم از کم ایک موت اس سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ روز کہا ’’21 اپریل 2022 تک، ڈبلیو ایچ او کے یورپی خطے کے 11 ممالک اور ڈبلیو ایچ او امریکی خطے کے ایک ملک سے نامعلوم اصل کے شدید ہیپاٹائٹس کے کم از کم 170 معاملے سامنے آئے ہیں‘‘۔زیادہ تر کیسز برطانیہ (114) میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ دیگر متاثرہ علاقوں میں امریکہ، اسپین، اسرائیل، ڈنمارک، ہالینڈ اور اٹلی شامل ہیں۔ ناروے اور فرانس میں دو دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ رومانیہ اور بیلجیئم میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ’’ایک ماہ سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں اس طرح کے معاملے درج ہو رہے ہیں۔ 17 بچوں کو لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔ کم از کم ایک موت کی بھی اطلاع ملی ہے‘‘۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان میں سے 20 کے قریب مریض کورونا وائرس سے بھی متاثر پائے گئے، جب کہ 19 مریض کووڈ 19 کے ساتھ ایڈینو وائرس سے متاثر تھے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ’’ شدید وائرل ہیپاٹائٹس کا سبب بننے والے عام وائرس (ہیپاٹائٹس وائرس اے، بی، سی، ڈی اور ای) ان میں سے کسی بھی معاملے میں نہیں پائے گئے ہیں۔ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے‘‘۔ تنظیم نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفری پابندیاں ضروری نہیں ہیں۔