بمنہ سرینگر میں قائم چلڈرن اسپتال کے قریب فٹ برج اور کراسنگ کی عدم موجودگی

حادثات کا آئے روز رہتا ہے خطرہ ، مریضوں کے تیمار دار نالاں ، حکام ٹس سے مس نہیں

سرینگر // سرینگر کے بمنہ علاقے میں قائم چلڈرن اسپتال کے قریب فٹ برج اور کراسنگ کی عدم موجودگی کے باعث حادثات کا خطرات رہتا ہے تاہم انتظامیہ اس کی جانب کوئی توجہ فراہم نہیں کر رہی ہے ۔ سی این آئی کو اس ضمن میں نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سرینگر کے بمنہ علاقے میں نیو چلڈرن ہسپتال میں مریض اور ان کے تیمار داروں کو مصروف بائی پاس روڈ کو عبور کرنے کیلئے مسلسل اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں کراسنگ کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی فٹ برج کی تعمیر کی گئی ہے ۔ نمائندے سے بات کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے بتایا کہ چلڈرن اسپتال بمنہ کے نزدیک سڑک عبور کرنا واقعی خطرناک ہے خاص طور پر ایسے افراد جن کے گود میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس کی جانب کوئی توجہ فراہم نہیں کرتی ہے اور نہ مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو آسائش پہنچنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائیں جاتے ہیں جو کہ ناعث تشویش بات ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بمنہ سری نگر میں اس اسپتال کے قریب ایمبولینس گاڑی کی زد میں آکر دو افراد کی موت ہوگئی تھی۔ایک اور مریض کے تیمار دار کا کہنا تھا کہ ہسپتال روڈ کے باہر سڑک حادثے کے امکانات ہوتے ہیں کیونکہ اٹینڈنٹ اور مریض بغیر کسی فٹ اوور برج یا زیبرا کراسنگ کے بائی پاس کراس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسپتال کو وہاں منتقل کرکے کچھ آسائش ہوئی ہے تاہم کراس اور فٹ برج کی عدم دستیا بی سے مریضوں اور ان کے تیمار داروںکو پریشانیوں کا سامنا ہے اور یہ حادثات سے کم نہیں ہے جس سے انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہ ایمبولینسوں کیلئے ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال پہنچنا بھی مشکل ہے کیونکہ انہیں ہسپتال سے دو کلومیٹر آگے یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔تاہم انتظامیہ نے آج تک اس کی جانب کوئی توجہ فراہم نہیں کی جس کے باعث حادثات کا خطرہ رہتا ہے اور لوگوں کو پریشانیوں درپیش ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ میں ہم نے دیکھا کہ رات کے دوران ایمبولنس گاڑی کی زد میں دو افراد کی موت ہوئی ہے ۔