وزیر اعظم 2014کے مقابلے کیں دوگنا مالی پیکیج فراہم کرے تاکہ بازآبادکاری کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں/نائب وزیر اعلیٰ
سرینگر/اے پی آئی// حالیہ تباہ کن سیلاب کیلئے 2014کے سیلاب سے زیادہ مالی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے بیلوارڈ سے گاندربل تک شاہراہ کو 4لائنوں میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خواب بہت پہلے وزیر اعلیٰ نے دیکھا تھا ، اسے موجودہ سرکار شرمندہ تعبیر کرے گی ۔ جموںوکشمیر میں دو سرکاریں چل رہی ہیں ، ایک کو عوامنے چنا ہے اور دوسری مسلط کردی گئی ہے ۔ جموں وکشمیر کا سٹیٹ ہڈ بحال کیا جانا چاہیے اور سرکار کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق بلیوارڈ سے گاندربل تک شاہراہ کو چار لائنوں میں تبدیل کرنے کے ڈی پی آر کا معائنہ کرتے وقت نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حاشے پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلیوارڈ سے گاندربل تک شاہراہ کو چار لائنوں میں تبدیل کرنے کا خواب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے 2014میں دیکھا تھا تاہم پی ڈی پی ، بی جے پی مختلف حکومت نے اس شاہراہ کو چار لائنوں میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جو افسوس ناک ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس شاہراہ پر اکثر وبیشتر ٹریفک جام رہتا ہے ، سیاحوں کا بڑا رش ہوا کرتا ہے اور یہ شاہراہ جب تک نہ چار لائنوں میں تبدیل ہوگی تب تک اس صورتحال سے نجات ملنے کی امید نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پچھلے 11برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں صرف خواب دکھائے گئے اور بیانات جاری کئے گئے ، عملی اقدامات اٹھانے کی طرف سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکیا گیا ۔ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیرا علیٰ نے کہا کہ جن سیاسی پارٹیوں نے جموںوکشمیر کو تباہ و برباد کیا ، اس کی خصوصی حیثیت ختم کرائی ، اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا وہ ہمیں الزام نہیں لگاسکتے ، وہ اپنی کارکردگی دکھائے کہ انہوںنے جموں وکشمیر کے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کیا کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ عوام نے ہمیں پانچ سال دئیے ہیں اور اگر ہم عوام کے تواقعات پر کھرے نہیں اترے تب ہمیں عوام کے سامنے جوابدہ تو ہونا پڑے گا۔ انہوںنے کہا کہ اتار چڑھائو سیاست میں لازمی ہے ، ابھی شروعات ہوئی اور ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر میں دو سرکاریں چل رہی ہیں ، ایک کی سربراہی عمر عبداللہ کررہے ہیں جسے عوامنے چنا ہے اور دوسری سرکار ان پر مسلط کردی گئی ہے اور جتنے بھی اہم اختیارات ہیں وہ اسی سرکار کے پاس ہیں ۔ حالیہ سیلاب ،موسلادھار بارشوں سے فصلوں ، سیب صنعت کو ہوئے نقصان کی بھر پائی کیلئے وزیر اعظم سے بڑے مالی پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد مرکزی حکومت نے 80ہزار کروڑ روپے پیکیج کا اعلان کیا تھا ، بی جے پی ، پی ڈی پی مخلوط حکومت کو اس مالی پیکیج کے بارے میں جواب دینا ہوگا کہ انہوںنے یہ رقومات کہاں خرچ کی ۔نائب وزیرا علیٰ نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد اگر مرکزی سرکار نے 80ہزار کروڑ روپے کی مالی معاونت کی تھی اب کی بار 160ہزار کروڑ روپے کی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ بازآبادکاری کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جاسکیں اور لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے سرکار کام کرسکے ۔ انہوںنے کہا کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے جموں وکشمیر کا سٹیٹ ہڈ بحال کیا جانا چاہئے اور جموں وکشمیر کی سرکار کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں میں لوگوںنے بھر پور اعتماد دیا ،تاہم حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران جو پُل ڈھ گئے وہ کس کی سرکار میں بنے تھے ، اور جموں کے متاثرہ لوگوںکی بازآبادکاری اور انہیں معاوضہ فراہم کرنے کیلئے انہوںنے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے دور میں کبھی بھی جموں سرینگر شاہراہ 16دنوں تک بند نہیں رہی ۔ہم لوگوں کو راحت پہنچانے اور ان کے مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے ہمیشہ آگے رہے تاہم جموںسرینگر شاہراہ کے بند ہونے ، سیب صنعت کو نقصان پہنچنے کا جہاں تک تعلق ہے ان معاملات کے بارے میں عوام کو پوری طرح سے جانکاری ہے ۔










