نہرو یوا کیندر نے نوجوانوں کو نیشنل یوتھ کارپس سکیم کے تحترَضاکاروں کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی

بغیر تحقیقات کے ملازمین کی برخاستگی ناتاشاہی: نیشنل کانفرنس

سری نگر//نیشنل کانفرنس نے ملازمین کی ‘بے قاعدہ اور مشکوک برخاستگی‘ کے جاری سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عمل کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بغیر تحقیقات ملازمین کی برخاستگی تاناشاہی، ہٹ دھرمی اور انتقام گیری پر مبنی فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران جس طرح بغیر تحقیقات اور مشکوک انداز میں ملازمین کی برطرفی عمل میں لائی جا رہی ہے اور کل مزید 11 ملازمین کی برخاستگی عمل میں لائی گئی وہ انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس گورنر انتظامیہ کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور مذموم حربہ مانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اس سے قبل گذشتہ سال ایک اور حکمانے کے ذریعے حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48 سال کی عمر میں سبکدوش کر سکتی ہے۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل کر محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے۔عمران نبی ڈار نے کہا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کے لئے سرکاری نوکریوں کے دروازے غیر اعلانیہ طور پر بند کردیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا جموں و کشمیر میں روا رکھی گئی ناانصافیوں، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوراً سے پیش تر برخواستگی کا یہ سلسلہ بند کر کے برطرف کئے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتے کے روز مزید 11 سرکاری ملازمین کو ‘ملک کی سلامتی کے مفاد میں‘ ملازمت سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔جن 11 کشمیری ملازمین کو سرکاری ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے ان میں پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں مقیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے دو فرزند بھی شامل ہیں۔قبل ازیں لیفٹیننٹ گورنر نے گذشتہ ماہ قریب پانچ کشمیری سرکاری ملازمین بشمول ایک اسسٹنٹ پروفیسر، ایک نائب تحصیلدار اور تین اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔ہفتے کو جاری برطرفی کے 11 الگ الگ احکامات، جن کا متن ایک جیسا ہے، میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر مطمئن ہیں کہ ملک کی سلامتی کے مفاد میں ان معاملات (کیسز) کی تحقیق کرنا لازمی نہیں ہے۔ملازمین کی برطرفی کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ 311 کی ذیلی شق 2 (سی) کا سہارا لیا جا رہا ہے جس کے تحت صدر جمہوریہ یا ریاست کے گورنر تحقیقات کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کو ‘ملک کی سلامتی کے مفاد‘ میں ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے متذکرہ دفعہ کے تحت کشمیر میں ‘ملک مخالف سرگرمیوں‘میں ملوث ہونے کے الزام میں سینکڑوں ملازموں کو برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لئے ایک خصوصی ‘ٹاسک فورس‘ تشکیل دی گئی ہے۔سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیمیں اور علاقائی سیاسی جماعتیں سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کی پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کر چکی ہیں۔