خطے میں گزشتہ چار برسوں سے سرگرم تھا ، کئی تشدد آمیز واقعات میں ملوث رہا
سرینگر/ وی او آئی// جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے بدھ کو بتایا کہ ادھمپور ضلع کے ڈوڈو-بسنترگڑھ جنگلات میں حالیہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد پاکستان میں قائم جیشِ محمد تنظیم کا اعلیٰ ترین کمانڈر تھا، جو گزشتہ چار برسوں سے علاقے میں سرگرم تھا۔وائس آف انڈیا کے مطابق ڈی جی پی نے کہا، “انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، اور حال ہی میں ہمیں ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ بسنترگڑھ کے جنگلات میں ایک اہم اور سینئر جیش کمانڈر، جو وہاں گزشتہ چار سال سے سرگرم تھا، مارا گیا ہے۔ ہم کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ایک ایک کر کے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عوامی تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ‘‘پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات بہتر ہیں، اور یہی اعتماد ہمیں بروقت اطلاعات فراہم کرتا ہے۔’’ذرائع کے مطابق، 26 جون کو ہونے والے ایک تصادم میں پاکستانی دہشت گرد حیدر، جس کا کوڈ نیم “مولوی” تھا، مارا گیا، جب کہ اس کے تین ساتھی خراب موسم، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور گھنے جنگلات کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔تاہم ڈی جی پی نے جموں خطے کے جنگلاتی علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں کی صحیح تعداد بتانے سے گریز کیا، اور کہا کہ “یہ اعداد و شمار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ڈی جی پی نلین پربھات نے بدھ کو سی آر پی ایف کے آئی جی گوپال شرما، آئی جی پولیس جموں زون بھیم سین تْتی، اور ڈی آئی جی جموں-سامبا-کٹھوعہ رینج شیو کمار کے ہمراہ اکھنور پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اس تھانے کو وزارت داخلہ کی جانب سے “ایوارڈ آف ایکسیلنس” ملنے پر پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دی۔ڈی جی پی نے اکھنور پولیس کی منشیات، مویشیوں کی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے سابق ایس ایچ او طارق احمد، ایس ڈی پی او موہن شرما، اور ایس پی برجیش شرما کی 2024 میں مثالی کارکردگی پر خصوصی تعریف کی، اور موجودہ ایس ایچ او سنجیو چھب اور ایس ڈی پی او ورندر گپتا کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ وہ اس روایت کو برقرار رکھیں گے۔










