برفباری کے بعد وادی میں تخلیقی سرگرمیاں اور مسکراہٹوں کا موسم

فنِ مجسمہ سازی، شینہ جنگ اور سیاحوں کی رونق نے سرد موسم کو خوشگوار بنا دیا

سرینگر/ یو این ایس// وادی کشمیر میں شدید برفباری کے بعد اگرچہ معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں، سڑکوں پر آمدورفت محدود ہے اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی وادی کے شہر و دیہات میں ایک خوبصورت سماجی و ثقافتی منظرنامہ بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہر طرف برف سے ڈھکی وادی میں عوام بالخصوص نوجوان نسل نے تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے سرد موسم کو جشن میں بدل دیا ہے۔یو این ایس کے مظابق وادی میں قصبوں سمیت دیہی علاقوں کے کھلے مقامات شامل ہیں، میں بچے اور نوجوان برف سے نت نئے فن پارے تخلیق کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کہیں روایتی برف کے پتلے بنائے جا رہے ہیں، کہیں جانوروں، پرندوں، گھروں اور قدرتی مناظر کی خوبصورت اشکال بنائی جا رہی ہیں جو دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔کئی علاقوں میں نوجوانوں نے برف سے کشمیری ثقافت کی علامت “شین ماہرن” یعنی روایتی کشمیری دلہن کے خوبصورت مجسمے تیار کیے، جنہیں روایتی انداز میں سجایا گیا۔ اسی طرح متعدد گھروں کے صحن میں بچوں نے برف کے گھر یعنی ’اِگلو‘ بنا کر اسے کھیل اور تفریح کا ذریعہ بنا دیا۔ بعض مقامات پر برف کے پتّلوں کو دلچسپ نام دیے گئے جن میں ’مسٹر چلہ کلان‘ خاص طور پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ پارکوں، باغات اور کھلے میدانوں میں بچوں کی بڑی تعداد موبائل فونوںکے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے تاکہ ان یادگار لمحات کو محفوظ رکھا جا سکے۔ والدین بھی اپنے بچوں کے ساتھ ان سرگرمیوں میں شریک ہو کر نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں بلکہ خود بھی بچپن کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سیاحتی مقامات پر بھی غیر معمولی رونق دیکھی جا رہی ہے۔پہلگام،گلمرگ،سونہ مرگ اور دیگر تفریحی مقامات پر ملکی و غیر ملکی سیاح تازہ برفباری سے خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ سیاح برف پر چلتے ہوئے، اس سے کھیلتے ہوئے، تصاویر بنواتے ہوئے اور خود بھی برف سے مختلف اشکال تیار کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ کئی سیاحوں نے کہا کہ کشمیر کی برفباری اور یہاں کے لوگوں کی تخلیقی صلاحیت ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ادھر وادی بھر میں صدیوں پرانی روایت ’شین جنگ‘ ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہے۔ بچے ایک دوسرے پر برف پھینکتے، پھسلتے، قہقہے لگاتے اور سرد موسم کو کھیل میں بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ کئی مقامات پر منجمد آبی ذخائر کے قریب بچے احتیاط کے ساتھ کھیل کود میں مصروف ہیں، جبکہ نوجوان گروپوں کی صورت میں برفانی تفریح سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بار صرف بچے اور نوجوان ہی نہیں بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ کئی بزرگ شہری اپنے بچوں اور پوتوں کے ساتھ برف کے پتلے بناتے اور تصاویر بنواتے دکھائی دیے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ برفباری کشمیری معاشرے میں صرف موسم نہیں بلکہ ایک جذباتی اور ثقافتی تجربہ بھی ہے۔اگرچہ دیہی علاقوں میںبرفباری نے نظام زندگی کو متاثر کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے وادی میں زندگی، تخلیق، خوشی اور روایت کو بھی ایک نئی توانائی دی ہے۔ برف سے ڈھکی گلیاں، ہنستے کھیلتے بچے، تخلیقی نوجوان اور خوش باش سیاح، یہ تمام مناظر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کشمیری عوام مشکل موسم کو بھی حسن، فن اور خوشی میں بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں۔