SNOW

برفباری سے وادی کشمیر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے

سرینگر//کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت خطہ ہے جس سے خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں یہاں کے پہاڑ، دریاء ، ندیاں، جنگلات ، چرندوپرند قدرت کے شاہکار کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتی ہے اور اس خوبصورتی کو موسم سرماء مزید نکھارتا ہے ۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں ماہ نومبر سے ہی سخت سردیاں شروع ہوجاتی ہے اور خاص کر ماہ دسمبر میں برفباری ہوجاتی ہے اور ماہ دسمبر کی 21تاریخ سے ہی چالیس روزہ ’’چلہ کلاں‘‘ شروع ہوجاتا ہے جس میں درجہ حرارت منفی انجماد ے نیچے چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے برف جمع جاتی ہے اور ہر طرف سفید چادر میں لپٹی چیزیں بشمول ندی نالے ، دریاء پہاڑ اور سڑکیں نظر آتی ہے جو اس کوخطے کو مزید خوبصورت بنادیتا ہے اور دنیا بھر کے مہم جوئی کے شوقین وادی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔ سردیوں میں ایڈونچر ٹورازم کو فروغ ملتا ہے اور دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں کی برف سے لدے پہاڑوں اور وادیوں کی سیر کرتے ہیں۔ برفباری کے بعد جہاں پہاڑیاں برف سے پوری طرح ڈھک جاتی ہے وہیں جھیلیں منفی درجہ حرارت کی وجہ سے جم جاتی ہے ۔ وادی کے متعدد میدانی علاقوں میں برفباری کے بعد سیکنگ کیلئے ماحول تیار ہوجاتا ہے ۔لیکن گلمرگ جو عالمی سطح پر اپنی خوبصورتی کیلئے جانا جاتا ہے برفباری کے بعد سنو سکیٹنگ کے متلاشی افراد کیلئے ایک بہترین موقع پیدا کرتا ہے اور یہاں پر سنو سکیٹنگ ، سنو ہاکی وغیرہ کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلمرگ میں موجود ’’کیبل کار‘‘ دنیا کی دوسری بڑی کیبل کار مانی جاتی ہے جس میں سیاح آس پاس کے جنگلات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں گلمرگ کے ساتھ ساتھ ساتھ وادی بنگس بھی سیاحوں کی پسندیدہ مقام کے طور پر اُبھر رہا ہے جہاں پر برفباری کے بعد سنو سکیٹنگ اور سنو سکوٹروں سے سیاح لطف اندوز ہوتے ہیں اس کے علاوہ پہلگام بھی اب ونٹر ٹورازم ڈسٹنیشن کے طور پر اُبھر رہا ہے پہلے تو پہلگام میں سیاحت صرف موسم گرما میں ہوتی تھی لیکن اب پہلگام میں بھی سنو سکیٹنگ کی سہولیت دستیاب ہے ۔ نالہ لدر اور برف سے ڈھکے ہوئے میدان شاندار نظارہ پیش کرتے ہوئے سنو سکیٹنگ کا ماحول فراہم کرتے ہیں ۔ ان مقامات پر نہ صرف سیاح کھیلوں کا مزہ لیتے ہیں بلکہ ایک دوسر ے پر برف پھینکنے سے بھی لطف اندوز ہوجاتے ہیں ۔ جہاں وادی کے دور دراز علاقے میں موجود سیاحتی مقامات سیاحوں کیلئے منفر نظارے پیش کرتے ہیں وہیں وسطی کشمیر خاص کر سرینگر بھی سیاحوں کیلئے مشاہدہ کرنے کیلئے ایک بہترین جگہ ہے خاص کر جھیل ڈل اگرچہ ہر موسم میں سیاحوں کیلئے پسندیدہ مقام ہوتا ہے وہیں موسم سرماء میں جب جھیل ڈل کی سطح جم جاتی ہے زیادہ دیدہ زیب بن جاتی ہے اورہاوس بوٹوں اور نزدیکی ہوٹلوں میں موجود سیاح اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اسی طرح مغل باغات بھی برف سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں جو مزید خوبصورت بن جاتے ہیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ برفباری کے بعد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور لوگ ان سردیوں میں آنے والے مہمانوں کا دل کھول کر خوش آمدید کرتے ہیں ۔ کشمیری لوگ اپنی مہمان نوازی کیلئے پوری دنیامیں مشہور ہے اور اسی مہمان نوازی کے چلتے سردیوں میں وہ اپنے مہمانوں کیلئے مختلف اقسام کے پکوان تیار کرتے ہیںاور سیاحوں کیلئے اپنے گھر پیش کرتے ہیں جو سیاحوں کو ہوم سٹے کی سہولیت پیش کرتے ہیں۔ مقامی خاندانوں کے ساتھ رہنا علاقے کی ثقافت اور روایات کو جاننے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔وی او آئی کے مطابق موسم سرما میں مہمانوں کیلئے خصوصی طور پر لذیز پکوانوں کو تیار کیا جاتا ہے جن میں روغن جوش ، یخنی ، ہریسہ ، گوشتابہ ، کباب وغیرہ قابل ذکر ہے جویہاں پر روایتی مہمان نوازی کا ایک حصہ ہے ۔ وادی کشمیر میں بنائے جانے والے یہ کھانے نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیںبلکہ یہ کشمیری روایت اور ثقافت کی بھی ایک عمدہ مثال ہے ۔ موسم سرماء میں ونٹر ٹورازم کو فروغ دینے کیلئے بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور گزشتہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ سرمائی سیاحت کی طرف سرکار کی جانب سے خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔حالیہ برسوں میںموسم سرما کے کھیلوں اور اسکیئنگ، سنو بورڈنگ، آئس کلائمبنگ، سنو شوئنگ اور سنو موبلنگ جیسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ وادی میں کھیلوں کے شائقین کو راغب کرنے کے لیے موسم سرما کے کھیلوں کے مقابلوں کی تشہیر کرنے کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت ہے۔ تاہم وادی میں سرمائی کھیلوں کی صلاحیت کو عالمگیر بنانے کے لیے، خاص طور پر موسم سرما کی سیاحت کے لیے تیار کردہ ٹارگٹڈ مارکیٹنگ مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں موسم سرماء میں کشمیر کی خوبصورتی کو زیادہ تشہیر دی جاسکتی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں اور بلاگس کے ذریعے یہاں کے برفیلی پہاڑ، جھرنے اور دریائوں کی عکس بندی کرکے ان کو سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر شائع کیا جاسکتا ہے جو یہاں کی خوبصورتی کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائے گی ۔ سردیوں کے دوران اس طرح ایک وسیع سیاحت کو اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے ۔جہاں وادی کشمیر میں ’’ونٹر ٹورازم‘‘ کو فروغ مل رہاہے وہیں سرمائی سیاحت کو کچھ چلینجوں کا سامنا ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ سڑک رابطوں کو بہتر بنانے کیلئے کام جاری ہے اور سیاحتی مقامات میں بنیادی ڈھانچے کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ سیاحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور مقامی حکام کے عزم سے کشمیر کی سرمائی سیاحت کی صلاحیت کو مزید کھولنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کشمیر میں موسم سرما کی سیاحت نہ صرف سیاحوںکو فائدہ دے گی بلکہ خطے کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ سرمائی سیاحت کی وجہ سے یہاں پر موسم سرماء کے دوران کاروبار بڑھ جائے گا اور مقامی نوجوانون کیلئے روزگار کے مزید مواقعے پید ا ہوں گے ۔ البتہ کشمیر میں پائیدار موسم سرما کی سیاحت کو ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو آنے والی نسلوں کے لیے اپنی قدرتی خوبصورتی کی حفاظت کے لیے ذمہ دار سیاحتی طریقوں کی ضرورت ہے۔ فضلہ کے انتظام، جنگلات کی بحالی اور ماحول دوست نقل و حمل کے لیے اقدامات سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے ماحول کو محفوظ رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔وادی کشمیر میں سرمائی سیاحت کیلئے کافی گنجائش ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دی جائے اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے ۔ سیاحوں کو جتنی یہاں پر سہولیت دستیاب ہوگی سیاحت کیلئے وہ اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔