برطانیہ نے ایک آزاد جج کی سربراہی میں 2010 اور 2013 کے درمیان افغانستان میں مسلح افواج کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔مانیٹرنگ کے مطابق انکوائری میں کئی حراستی کارروائیوں جائزہ لیا جائے گا کہ ملٹری پولیس کی جانب سے غلط کاموں کے الزامات کی تحقیقات کیسے کی گئیں، بالخصوص یہ کہ کیا ان میں کوئی پردہ پوشی کی گئی۔انکوائری شروع کرتے ہوئے سینئر جج چارلس ہیڈن-کیو نے کسی کو بھی معلومات کے ساتھ سامنے آنے کو کہا۔سال 2011اور 2012میں رات کو مارے گئے چھاپوں کے دوران دو الگ الگ واقعات میں مبینہ طور پر برطانیہ کی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والے تین کم عمر لڑکوں سمیت 8 افراد کے اہل خانہ نے گزشتہ دسمبر میں اس انکوائری کے اعلان کا خیرمقدم کیا تھا۔نورزئی خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ ہم اس امید پر زندہ ہیں کہ ذمہ داروں سے ایک دن حساب لیا جائے گا، 10سال سے زیادہ پہلے میں نے اپنے دو بھائیوں، اپنے جوان بہنوئی اور بچپن کے ایک دوست کو کھو دیا تھا جن کے آگے زندگی پڑی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے برطانوی فوجیوں نے ہمارے خاندانی گھر کے باہر ہتھکڑیاں لگائیں، مارا پیٹا اور پوچھ گچھ کی اور میرے رشتہ داروں اور دوست کو سر میں اس وقت گولی ماری گئی جب وہ چائے پی رہے تھے۔
سیف اللہ کے خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو میرے خاندان، افغانوں کے جانی نقصان کی قدر کرتے ہیں، جو تحقیقات کے لیے کافی ہے’۔بدھ کو باضابطہ طور پر انکوائری شروع ہونے کے بعد بات کرتے ہوئے قانونی فرم لی ڈے کی پارٹنر ٹیسا گریگوری نے کہا کہ ان کے مؤکل انکوائری ٹیم کی مدد کے منتظر ہیں کیونکہ وہ اس سچائی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بہت عرصے سے چھپا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برسوں کی رازداری اور پردہ پوشی کے دوران ہمارے مؤکلوں نے اپنے پیاروں کی موت کے انصاف کے لیے انتھک جدوجہد کی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اب افغانستان میں برطانیہ کی خصوصی افواج کے طرز عمل اور کمانڈ پر ایک نئی روشنی ڈالی جائے گی۔










