برادران وطن اور ہمارا اخلاق

برادران وطن اور ہمارا اخلاق

افضل حسین فیضی

وطن عزیز ہندوستان روئے زمین کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں مختلف رنگ و نسل، مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ اور ہر کوئی سکون ( جسے جتنا میسر ہے) سے اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو اس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا درجہ دیتی ہے۔ مختلف قوم اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے کے سبب یہاں کے باشندوں کی تہذیب و ثقافت کھانے، پینے، رہن، سہن، شادی، بیاہ جیسے جملہ امور بھی ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہیں۔ یہاں بسنے والا ہر شخص اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ و دوام کا متمنی ہے۔ چونکہ اس ملک میں اسلام جیسے آفاقی مذہب کے ماننے والے بھی آباد ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ باتوں کا پاس و لحاظ رکھیں تاکہ برادران وطن کے ساتھ کسی بھی طرح کا سلوک اختیار کرنے میں اخوت و محبت برقرار رہے۔
شریعت اسلامیہ اپنے پیروکاروں کی ہر طرح کے مسائل میں رہنمائی کرتی ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ جب اس کے ماننے والے کسی ملک کے حاکم ہوں تو رعایا کے ان پر کیا حقوق ہیں۔ اسلام بتاتا ہے کہ جب تم اکثریت میں رہو تو اقلیتوں کے ساتھ تمہارے سلوک کیسے ہوں اور جب اقلیت میں تم خود ہو تو اس ملک کی اکثریت کے ساتھ تمہارے سلوک کیسے ہوں۔پیغمبر اسلام کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا (متفق علیہ)۔
جب ہم نے اس ملک میں بسنے والے افراد کو برادران وطن کہہ دیا تو ہمارے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ جب ہم ان سے کسی قسم کا تعلق قائم کریں تو اپنے بھائیوں جیسی تعلق قائم کریں یعنی ان سے اپنے بھائیوں جیسا الفت و محبت کا مظاہرہ کریں یعنی اگر ہمارا سابقہ چھوٹے سے پڑے تو اس پر شفقت کریں اور اگر ہم سے بڑے ہوں تو ان کے ساتھ ادب سے پیش آئیں۔
جب ہم ان کے ساتھ بھلائی اور نرم دلی کا مظاہرہ کریں گے تو ظاہر سی بات ہے ہمارے کردار کا ان پر ایک مثبت اثر پڑےگا اور وہ ہمارے کردار سے متاثر ہوں گے۔ پھر جب ہمارا اسلامی کردار ان کے دلوں میں جگہ بنا لے گا تو کہیں نہ کہیں اسلام کی حقانیت بھی ان پر واضح ہوگی پھر بعید نہیں کہ وہ گمراہی سے ہدایت کی طرف لوٹ آئیں۔
دین اسلام میں حسن سلوک اور حسن اخلاق کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ سرکار دو عالم کا فرمان ہے مجھے تو صرف اس (مقصد) کے لیے مبعوث کیا گیا کہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کر سکوں۔ نبی اکرم ﷺ کی پوری مکی زندگی پڑھ ڈالیے آپ پائیں گے کہ کس طرح نبی کریم ﷺ نے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا ہزار ہا ظلم و ستم برداشت کرنے کے باوجود آپ نے لوگوں کے لیے دعائیں کیں صرف اس لیے کہ لوگ کسی طرح گمراہی کے اندھیرے سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں۔ تو کیا آج ہم اسی اخلاق کا مظاہرہ نہیں کر سکتے جس کا مظاہرہ آج سے چودہ سو سال قبل ہمارے نبی نے کیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا۔
آج بھی ہوجو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ میں صوفیا اور بزرگان دین کا ایک کلیدی کردار رہا ہے ان کے اخلاق و کردار سے گاؤں گاؤں کے لوگ متاثر ہوکر دامن اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ دور حاضر میں ہم ان بزرگان دین کو اپنے لیے مشعل راہ بنا کر اپنے اخلاق و کردار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اور یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے درمیان بسنے والوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے۔
برادران وطن میں بڑی اکثریت ان کی ہے جو بُت پرست ہیں۔ جن کے ساتھ ہمیشہ ہمارا ملنا جلنا رہتا ہے۔ اسی لیے ان کے ساتھ ہمارے حسن سلوک کی ذمّہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ سلوک، رواداری کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم برادران وطن سے ملیں تو محبت کے ساتھ۔ جب ہم ان سے ہم کلام ہوں تو ہمارے الفاظ میں ان کے لیے(جہاں تک اسلام اجازت دیتا ہے) عزت ہو۔ خاص کر جب زہریلی میڈیا ہماری شبیہ خراب کر رہی ہو اور کھلے عام دہشت گرد، غدار وطن جیسے القابات ہمیں دیے جا رہے ہوں۔ تو ایسے وقت میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اخلاق و کردار جس کی اسلام نے ہمیں تلقین کی ہے اسکا مظاہرہ کرتے ہوئے برادران وطن کو یہ باور کرائیں کہ ہماری جو شکل آپ نے میڈیا میں دیکھ رکھی ہے وہ ہماری نہیں۔ ہمارا اثر ان پر ایسا ہو کہ وہ خود ہمارے کردار اور حسن سلوک کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہ شخص ضرور اسلام کا ماننے والا ہے۔ کیونکہ وہ قرآن حدیث یا کوئی اسلامی کتاب نہیں پڑھتے وہ آپ کو پڑھتے ہیں آپ کے اخلاق و کردار سے اسلامی تعلیمات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ پھر جنہیں اللہ ہدایت دے دے وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
دیگر مذہب و ملت کے ماننے والے اگر ہم سے بغض و عداوت بھی رکھیں تب بھی ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا چاہئے تاکہ ان پر اسلام کی حقانیت واضح ہو سکے۔ اور اسلام نے حسن اخلاق کا جو اعلیٰ ترین معیار بنایا ہے وہ کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر سکیں۔ ارشاد باری ہے”اور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہوگی وہ اس وقت ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے“۔(حٰمٓ السجدہ /۳۴)
ارشاد فرمایا کہ تم برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو مثلاً غصے کو صبر سے ، لوگوں کی جہالت کو حِلم سے اور بدسلوکی کو عَفْوْ و درگُزر سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تواسے معاف کر دے، تو اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح تجھ سے محبت کرنے لگیں گے۔ (صراط الجنان)
اس آیت کی مکمل تفسیر نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہے۔ متعدد مصائب و آلام کے بعد بھی آپ نے صبر و استقلال کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنے ایذا پہنچانے والوں کے لیے بھی دعا فرمائی۔ کیونکہ آپ کو خداوند تعالیٰ نے دوست و دشمن، مسلم، غیر مسلم ہر ایک کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال بعد بھی کوئ شخص آپ کی سیرت پڑھتا ہے تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آئیں ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کیا بطور امتی ہم پر لازم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ اپناتے ہوئے ہم بھی اپنے ہمسایوں اور وطنی بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک اور رواداری اختیار کریں تاکہ ان تک اسلام کی ایک خوبصورت اور درست تصویر پہنچے۔
اخیر میں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ برادران وطن کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ اختیار کرنے تعلقات قائم کرنے میل جول، رواداری، اپنانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ان کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہو جائیں ان کے تہواروں، محفلوں میں شرکت کرنا شروع کردیں۔ بلکہ ہمارے لیے لازم ہے کہ کسی بھی طرح شریعت اسلامیہ کی حدود سے سر مو تجاوز نہ کریں۔ برادران وطن کے ساتھ ہر طرح کے معاملات شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کریں ۔