budget_2025

بجٹ 2024-25کے درجنوں اعلانات فائلوں تک محدود

جموں و کشمیر میںعمل درآمد میں تاخیر، نگرانی کا فقدان، عوامی اعتماد کو دھچکا

سرینگر/یو این ایس// بجٹ کو کسی بھی حکومت کا ترقیاتی روڈ میپ سمجھا جاتا ہے، جس سے عوام کو نئی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ مگر جموں و کشمیرکیلئے مالی سال 2024-25کے بجٹ میں کیے گئے کئی اہم اعلانات آج بھی عملی شکل اختیار کرنے کے منتظر ہیں، جس سے نہ صرف عوامی توقعات متاثر ہوئی ہیں بلکہ سرکاری کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق تقریباً دو درجن ایسے بڑے اعلانات ہیں جو ڈیڑھ برس گزرنے کے باوجود فائلوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان منصوبوں کے نفاذ کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے قاصر ہیں، جس کے باعث یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ منصوبے شاید محض اعلانات تک ہی محدود رہ جائیں۔یہ بجٹ 23 جولائی 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، جسے جموں و کشمیر کے لیے ترقی کے نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔ اس میں مختلف شعبوں میں بڑے اقدامات کا وعدہ کیا گیا تھا تاکہ ترقیاتی رفتار تیز ہو اور حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔مکانات و شہری ترقی سیکٹر میں اعلان کیا گیا تھا کہ جموں اور سری نگر میں رنگ روڈ کے ساتھ اسمارٹ مربوط سٹالائٹ ٹاؤن شپ تعمیر کیے جائیں گے، سانبہ میں دریائے بسنتَر کے لیے آلودگی کم کرنے کا منصوبہ شروع ہوگا، کٹرا میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اشتراک سے انٹر ماڈل اسٹیشن قائم ہوگا اور 78 شہروں و قصبوں کے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دی جائے گی۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی منصوبے پر زمینی سطح پر کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی، جبکہ کئی شہروں کے ڈرافٹ ماسٹر پلان برسوں پہلے نوٹیفائی ہونے کے باوجود آج تک فائنل نہیں کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق سیاحت و ثقافت کے شعبے میں سانبہ کے ڈگر دانی گاؤں کو روایتی “ماک ولیج” کے طور پر ترقی دینے اور آٹھ ثقافتی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر یہ دونوں منصوبے بھی عملی مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔کوآپریٹو سیکٹر میں ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر منی سپر بازار قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر اس پر بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔صحت کے شعبے میں ایمزاونتی پورہ کو مارچ 2025 تک فعال بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ رواں سال کے اختتام سے پہلے بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے گا۔اسی طرح بجٹ میں تمام بجلی کنکشنوںپر اسمارٹ میٹرنگ اور اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں نمایاں کمی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن موجودہ موسم سرما میں طویل بجلی کٹوتیوں نے واضح کر دیا کہ اس محاذ پر بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔واٹر سپلائی و آبپاشی سیکٹر میں توی بیراج منصوبے کو مالی سال 2024-25کے دوران مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر زمینی صورتحال بتاتی ہے کہ اس منصوبے کو مکمل ہونے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اسی طرح 46 نئے صنعتی اسٹیٹس کی تیز رفتار ترقی کا اعلان بھی ابھی تک مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں کے درجنوں اعلانات صرف اس لیے التوا کا شکار ہیں کیونکہ نہ تو ان پر مؤثر فالو اپ ہے، نہ کسی قسم کی نگرانی، اور نہ ہی واضح ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بجٹ اعلانات کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جانا چاہیے، جس میں ماہانہ یا سہ ماہی پیش رفت رپورٹ، ذمہ داری کا تعین اور کارکردگی نہ دکھانے والوں کے لیے جوابدہی کا نظام شامل ہو۔