کانگریس نے مرکزی حکومت پر پالیسی سازی میں ربط کی کمی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتہ کے روز سوال کیا کہ کیا بجٹ کے اعداد و شمار پیش کیے جانے کے فوراً بعد ان میں ترمیم کی جائے گی؟ ایسا اس لیے کیونکہ بجٹ کے کچھ ہی دنوں بعد جی ڈی پی اور صارفین پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی نئی سیریز جاری کی جانی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس تعلق سے کہا کہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ کل یعنی اتوار کو پیش کیا جائے گا، اس بارے میں کچھ فکروں پر غور کرنا ضروری ہے۔جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ریاستی حکومتیں شبہات کی شکار ہو کر انتظار کر رہی ہوں گی کہ ان کے لیے بجٹ میں کیا ہے، کیونکہ وزیر مالیات 16ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا اعلان کرنے والی ہیں۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ مالی کمیشن ایک ایسی باڈی ہے، جس کا قیام آئین کے آرٹیکل 280 کے تحت ہر 5 سالوں میں (یا اس سے قبل) کیا جاتا ہے، تاکہ وہ مرکز کے ذریعہ جمع کردہ ریونیو میں ریاستوں کی شراکت داری، اس شراکت داری کی ریاستوں کے درمیان تقسیم اور 5 سالوں کی مدت کے لیے خصوصی گرانٹ کی سفارش کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ 16واں مالیاتی کمیشن 27-2026 سے 31-2030 تک کی مدت سے جڑا ہوا ہے۔ جئے رام رمیش نے اس فکر کے علاوہ مزید کچھ اہم فکروں کی طرف اس پوسٹ میں ذکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2 مزید فکر بھی ہیں۔ پہلی فکر، بجٹ کے کئی اعداد و شمار جی ڈی پی کے فیصد کی شکل میں پیش کیے جائیں گے۔










