sajad lone

بجٹ بیوروکریٹس کا تیار کردہ ، سیاسی ویژن سے عاری

گزشتہ سال جیسا ہی کمزور بجٹ ہے، کوئی مالی پابندی نظر نہیں آتی// سجاد لون

سرینگر// یو این ایس // پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکنِ اسمبلی ہندواڑہ سجاد لون نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر حکومت کے بجٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ کسی سیاسی سوچ یا وڑن کا عکاس نہیں بلکہ مکمل طور پر بیوروکریٹس کی پیداوار ہے، جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کوئی نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔یق ٰں یا کے مطابق اسمبلی کمپلیکس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا،’’یہ بجٹ نہ تو پہلے سے بہتر ہے اور نہ ہی مختلف۔ میں تو کہوں گا کہ یہ اتنا ہی خراب ہے جتنا پچھلی بار تھا۔‘‘انہوں نے الزام عائد کیا کہ بجٹ میں سیاسی قیادت کا کوئی مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا’’یہ ایک بیوروکریٹک بجٹ ہے، اس میں سیاسی ان پٹ مکمل طور پر غائب ہے۔‘‘سجاد لون نے مرکزی حکومت کا بار بار شکریہ ادا کرنے کے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بجٹ میں کسی آزاد یا خودمختار پالیسی فریم ورک کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا’’ہر جگہ صرف مرکز کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے، بار بار، لیکن اپنی کوئی پالیسی سمت واضح نہیں کی گئی۔‘‘حکومت کی جانب سے مالی دباؤ اور وسائل کی قلت کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ بجٹ دستاویز خود ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا’’کیا بجٹ میں کہیں کوئی پابندی نظر آتی ہے؟ بالکل نہیں۔ نہ مالی پابندیاں ہیں اور نہ ہی ٹیکس وصولی میں کوئی رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔‘‘انہوں نے غریب خاندانوں کیلئے مفت ایل پی جی سلنڈروں کے وعدے میں کمی کو بھی حکومت کی پسپائی قرار دیا۔انہوں نے کہا’’پہلے کہا گیا تھا کہ تمام غریب خاندانوں کو سالانہ 12 مفت گیس سلنڈر دیے جائیں گے، اب اسے صرف انتیودیہ انا یوجنا تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ واضح پسپائی ہے۔‘‘سجاد لون نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر بھی یقین نہیں کہ حکومت نظرثانی شدہ وعدے پر بھی عمل کر پائے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے اور یہ حکومت کے سیاسی عزم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔