بجٹ اجلاس کیلئے اسمبلی سیکریٹریٹ کو 1500 سے زائد سوالات موصول

بجٹ اجلاس کیلئے اسمبلی سیکریٹریٹ کو 1500 سے زائد سوالات موصول

سیشن میں سوال و جواب، نجی بلوں اور قراردادوں کی بھرمار، اعداد و شمار میں مزید اضافہ متوقع

سرینگر// یو این ایس// قانون ساز اسمبلی کے 22 روزہ طویل بجٹ اجلاس، جو 2 فروری سے شروع ہو رہا ہے، کے لیے ارکان اسمبلی کی جانب سے ایک ریکارڈ 1500 سے زائد سوالات اسمبلی سیکریٹریٹ کو موصول ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جانچ پڑتال اور آن لائن و بذریعہ ہاتھ موصول ہونے والے سوالات کو یکجا کرنے کے بعد یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔حکام نے بتایا کہ اسمبلی عملہ سوالات کی جانچ اور انہیں متعلقہ محکموں کو ارسال کرنے کے عمل میں مصروف ہے، اسی لیے فی الحال ترجیح سوالات کو دی جا رہی ہے کیونکہ انہیں اجلاس کے دوسرے دن یعنی 3 فروری سے ایوان میں درج کیا جانا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے نجی ارکان بلز (پرائیوٹ ممبراس بلز) اور نجی قراردادوں کی حتمی تعداد آئندہ چند روز میں سامنے آئے گی۔ یہ بلوں اور قراردادیں بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں زیر غور آئیں گی، جو 27 مارچ سے دوبارہ شروع ہو کر 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ایوان میں کل 90 ارکان ہیں، جن میں سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پانچ وزراء اور اسپیکر کو نکال کر باقی 83 ارکان اسمبلی سوالات جمع کرانے کے اہل تھے۔ ہر رکن کو 20 سوالات (10 ستارہ دار اور 10 بغیر ستارہ والے) جمع کرانے کی اجازت ہے۔ اگر تمام ارکان مکمل سوالات جمع کراتے تو مجموعی تعداد 1660 بنتی، تاہم اس مرتبہ سوالات کی تعداد تقریباً 1600 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ستارہ دار سوالات سوال و جواب کے وقفہ کے دوران متعلقہ وزیر کی زبانی جواب دہی اور ضمنی سوالات کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں، جبکہ بغیر ستارہ والے سوالات کے صرف تحریری جوابات دیے جاتے ہیں۔حکام نے بتایا کہ چونکہ محکمہ داخلہ، دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق سوالات اب ارکان اسمبلی نہیں پوچھ سکتے کیونکہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری ہے اور محکمہ داخلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس ہے، اس لیے ارکان اسمبلی کی توجہ زیادہ تر صحت، تعلیم، دیہی ترقی، ریونیو، مالیات اور صنعت جیسے محکموں پر مرکوز رہی۔ تاہم تقریباً تمام محکموں سے متعلق سوالات موصول ہوئے ہیں۔اگر اجلاس کے دوران شور شرابہ یا رکاوٹ نہ ہو تو یومیہ تقریباً 10 تا 12 سوالات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ چونکہ لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے دن سوال و جواب کا وقفہ نہیں ہوتا، اس لیے اندازاً پورے اجلاس میں تقریباً 200 سوالات پر بحث ممکن ہے۔بجٹ اجلاس کی کل 22 نشستیں ہوں گی ۔ پہلے مرحلے میں 15 نشستیں2 فروری تا 19 فروری جبکہ دوسرا مرحلہ 27 مارچ تا 4 اپریل منعقد ہوگا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو وزیر خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، 6 فروری کو مالی سال 2026-27کا سالانہ بجٹ پیش کریں گے۔ یہ ان کا دوسرا بجٹ ہوگا۔ انہوں نے گزشتہ بجٹ 7 مارچ 2025 کو پیش کیا تھا۔موجودہ مالی سال 2025-26کا بجٹ 1,12,310 کروڑ روپے تھا، جبکہ 2024-25کا بجٹ 1,18,728 کروڑ روپے اور 2023-24 کا بجٹ 1,18,500 کروڑ روپے رہا۔امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ بجٹ پیش کرنے سے ایک روز قبل اسمبلی میں پری بجٹ اقتصادی سروے رپورٹ بھی پیش کریں گے۔