اتر پردیش کے بجلی صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاست میں تقریباً پانچ سال بعد بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یو پی پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) نے خاموشی سے اپریل کے بل میں 1.24فیصد فیول سرچارج (ایندھن سرچارج) شامل کر دیا ہے۔ اس اضافے کی وصولی اپریل کے بل سے ہی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ ریاست میں پہلا موقع ہے جب فیول سرچارج کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کے بل ہر ماہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی طرز پر اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں گے۔ یعنی کبھی بل تھوڑا کم آئے گا تو کبھی زیادہ، جس کا انحصار ایندھن کی قیمتوں پر ہوگا۔
بجلی کمپنیوں کو اس فیصلے سے کافی فائدہ ہوگا۔ اندازے کے مطابق ریاست کے 3.45 کروڑ صارفین سے مجموعی طور پر 78.99 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ تاہم یہ اضافہ بغیر کسی عوامی مشورے کے خفیہ طریقے سے لاگو کیا گیا ہے، جس پر شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ یو پی ریاستی بجلی صارفین کونسل نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ کونسل کے صدر اویش ورما نے کہا ہے کہ یو پی پی سی ایل صارفین سے 33,122 کروڑ روپے کی بقایہ رقم لیے بغیر مزید وصولی کا حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بجلی کمپنیاں صارفین کی واجب الادا رقم نہیں لوٹا رہیں تو انہیں بجلی کے نرخ بڑھانے کی اجازت کیسے مل گئی؟
ورما نے اعلان کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں یہ خفیہ اضافہ قبول نہیں کیا جائے گا اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کونسل کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔ یوپی کے لاکھوں بجلی صارفین اب مہنگے بلوں کے لیے تیار رہیں کیونکہ فیول سرچارج ہر ماہ بدلتا رہے گا اور اس کا اثر براہ راست جیب پر پڑے گا۔










