وادی کے طول ارض میں بجلی کٹوتی کالا منتہائی سلسلہ پی ڈی ڈی محکمہ نے شروع کردیاہے جس سے صارفین کو مشکلوں کاسامناکرنا پڑ رہاہے اور صارفین نے پی ڈی ڈی محکمہ سے مطالبہ کیاہے کہ کن وجوہات کی بناء پربرقی رو منقطع کی جاتی ہے پچھلے تین برسوں سے محکمہ اس بات کی یقین دہانی کرارہاتھا کہ چند گرڈ اور رسیونگ اسٹیشن کی اَپ گریشن کرائیج جارہی ہے اور پھروادی کشمیرمیںبجلی کی عدم دستیابی کاصارفین کوسامنا نہیں کرنا پڑیگا اب جبکہ محکمہ کے مطابق اَپ گرڈیشن کاکام مکمل ہوچکاہے ہائی ٹینشن لائنوں کوبچھایاگیاہے بجلی کے کھمبے بھی نصب کئے گئے ہے پھروجوہات کیاہے کہ 21وی صدی میں بھی وادی کے لوگوں سے کہاجاتاہے کہ کٹوتی پرمجبور ہونا پڑ رہاے ۔پی ڈی ڈی محکمہ کی جانب سے سمارٹ میٹر بھی نصب کئے جارہے ہے اور بجلی کے نظام کوچست درست بنانے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھاے جارہے ہے پھر بھی 6-8اور 8-10گھنٹے بجلی کامنقطع ہونا کیاترقی کی ضامن ہے ۔پی ڈی ڈی محکمہ کادعویٰ ہے کہ ان کے پاس 13سو میگاواٹ بجلی دستیاب ہے دو ہزار میگاواٹ وہ شمالی گرڈ سے حاصل کرتے ہے اگر سرما میں بھی اتنی ہی بجلی درکار ہے اور شمالی گرڈ سے مسلسل بجلی خریدی جارہی ہے تو پھرکٹوتی کیوں ۔کیااکیسوی صدی میں بھی جموںو کشمیرکے لوگوں کوبجلی کی عدم ستیابی ،پینے کے پانی کی قلت، سڑکوں کی خستہ حالت، طبعی سہولیت کے فقدان ،بہترتعلیمی نظام میسر نہ ہونے کاروناہے ہرسال سرکار کروڑوں روپے ان بنیادی سہولیات کوفراہم کرنے کے لئے خرچ کررہی ہے پھر بھی لوگ ان کی عدم دستیابی سے تنگ آ چکے ہیں ۔ہرسال سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ اب کسی کوقلت آب بجلی کی عدم دستیابی سڑکوں کی خستہ حالت کاسامنا نہیں کرنا پڑیگا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرکار کے یہ دعوے بے اثر ثابت ہوتے ہے بجلی کی عدم دستیابی نے آج سے ہی وادی میں سنگین رُخ اختیار کیا ہے اور لوگ طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہوگئے ہے ایک طرف بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے کارخانوں میں کام نہیں ہورہاہے سورج ڈھلنے کے بعد بیشتر علاقے اندھیرے میں ڈھوب جاتے ہے کٹوتی کے سلسلے میں محکمہ کو پروگرام مشتہر کرنا چاہئے تاکہ لوگ تزبزب اضطراف اور غیریقینی صورتحال سے دو چار نہ ہوتے ۔










