power outage

بجلی کی بحرانی صورتحال،لوگ نالاں وپریشان،محکمہ پی ڈی ڈی کی غفلت شعاری کا نتیجہ

مرتب شدہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کا مطالبہ

سرینگر /کے پی ایس / /وادی کے شمال وجنوب میں بجلی سپلائی کے شیڈول کے بیچ بجلی کٹوتی سے ہرسو بیشتر اوقات گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،بانڈی پورہ اور کپوارہ کے بیشتر دیہات میں بجلی کی آنکھ مچولی اور پسماندہ علاقوں میں گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے ۔جبکہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ،پلوامہ ،شوپیان اور کولگام کے علاوہ سرینگر سمیت وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع کے بیشتر علاقوں میں کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے اور پریشان حال ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ شمال وجنوب میں بجلی کی عدم دستیابی کو لیکر لوگ سڑکوں پر آکر محکمہ پی ڈی ڈی کیخلاف زور دار احتجاج کرتے رہتے ہیں تاہم کافی یقین دہانیوں کے باوجود بھی کوئی ٹھوس اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جارہا ہے اور لوگوں کی جانب سے شکایات موصول ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔کئی علاقوں سے لوگوں نے کے پی ایس کو فون کرکے بتایا کہ ماہ اکتوبرمیں برفباری کے بعد ان کے علاقوں میں بجلی کے کھمبے اور ترسیلی لائنیں زمین پر گری ہوئی ہیں ان علاقوں میں ترسیلی لائنیں اور کھمبے اتنے بوسیدہ ہوچکے ہیں کہ مرمت کے بعد بھی کنکشن کٹ جاتے ہیں جبکہ بہت سی جگہوں پر ٹرانسفارمر خراب ہوئے ہیں جس سے وہ علاقے بجلی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھانے کیلئے مرتب شدہ شیڈول کے تحت بجلی فراہم کی جائے اور دیہی علاقوں میں بجلی کے کھمبے اور ترسیلی لائنیں جدید طرز پر نصب کی جائیں تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔