power

بجلی شعبے کیلئے 6000 کروڑ روپے منظور، نقصانات میں کمی اور اسمارٹ میٹرنگ پر زور

سرمائی بجلی بحران پر تشویش، اضافی بجلی کی فراہمی اور اصلاحاتی اقدامات جاری// مرکزی وزیر توانائی

سرینگر/یو این ایس/ مرکزنے جموں و کشمیر میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف فلیگ شپ اسکیموں کے تحت مسلسل تعاون جاری رکھا ہے، اور اسی سلسلے میں 6000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں بجلی کے نقصانات میں کمی، اسمارٹ میٹرنگ اور نظام کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ معلومات راجیہ سبھا میں وزیر مملکت برائے توانائی شری پد نائیک نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ست شرما کے غیر ستارہ سوال کے جواب میں فراہم کیں، جس میں جموں و کشمیر میں پاور انفراسٹرکچر کی مضبوطی سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔وزیر مملکت نے ایوان کو بتایا کہدین دیال اْپادھیائے گرام جیوتی یوجنا (ڈی ڈی یو جی جے وائی)، انٹیگریٹڈ پاور ڈیولپمنٹ اسکیم (آئی پی ڈی ایس) اور پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا (سوبھاگیہ) جیسی اسکیموں کے تحت جموں و کشمیر میں 2909 کروڑ روپے کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔اسی طرح پردھان منتری ڈیولپمنٹ پیکیج (پی ایم ڈی پی) کے تحت 2780 کروڑ روپے کے منصوبے مکمل کیے گئے، جن کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کے تحت جموں و کشمیر کے لیے 6000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن میں لائن لاسز کم کرنے، اسمارٹ میٹرز کی تنصیب اور بجلی کے نظام کی کارکردگی میں بہتری شامل ہے۔سرمائی موسم میں بجلی کی قلت کو کم کرنے کے لیے وزارت کی جانب سے ہر سال مرکزی پاور اسٹیشنوں سے اضافی بجلی مختص کی جاتی ہے۔ موجودہ موسم سرما کے دوران اکتوبر 2025 سے فروری 2026 تک پتراتو تھرمل پاور پلانٹ سے 120 میگاواٹ غیر مختص بجلی جبکہ این ٹی پی سی کہلگاؤں سپر تھرمل پاور اسٹیشن سے 292.99 میگاواٹ بجلی جموں و کشمیر کو فراہم کی گئی۔اس سے قبل ست شرماجو جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر بھی ہیں، نے راجیہ سبھا میں سوال اٹھایا تھا کہ آیا حکومت نے سردیوں کے دوران بار بار ہونے والی بجلی کٹوتیوں کی وجوہات کی نشاندہی کی ہے اور ان پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اپنے جواب میں شری پد نائک نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کا معاملہ متعلقہ ریاست یا یونین ٹیریٹری کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ جموں و کشمیر کی رپورٹ کے مطابق سردیوں میں بجلی کی قلت کی بنیادی وجوہات میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی محدودیت اور بغیر میٹر کے علاقوں میں بے تحاشا بجلی استعمال شامل ہے،ست شرمانے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات کے مؤثر نفاذ اور مسلسل کوششوں کے ذریعے ہی عوام کو معیاری اور بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکتی ہے، خصوصاً سخت سردیوں کے دوران۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر میں اصلاحات اور جدید کاری کے لیے کیے جا رہے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی فعال پالیسیوں سے جموں و کشمیر جیسے علاقوں میں انفراسٹرکچر مضبوط ہو رہا ہے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آ رہی ہے۔