بجلی ترمیمی بل 2025 کے خلاف جموں کشمیر سمیت ملک گیر احتجاج کا اعلان

بجلی ترمیمی بل 2025 کے خلاف جموں کشمیر سمیت ملک گیر احتجاج کا اعلان

27 لاکھ بجلی ملازمین 10 مارچ کو ہڑتال اور کام کے بائیکاٹ پر جائیں گے

سرینگر/یو این ایس / ملک بھر کے بجلی شعبہ سے وابستہ ملازمین اور انجینئروں نے بجلی ترمیمی بل 2025کے خلاف 10 مارچ کو ملک گیر ہڑتال اور کام کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کی قیادت کل ہند پائور انجینئرس فیڈریشن کر رہی ہے جس کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون بجلی کے شعبے میں نجکاری کے راستے ہموار کرے گا اور اس سے کسانوں، غریب صارفین اور ملازمین کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق فیڈریشن کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 27 لاکھ بجلی ملازمین اور انجینئر 10 مارچ کو کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ یہ فیصلہ نیشنل کارڈی نیشن کمیٹی برائے الیکٹرک انجینئرس و ایمپلائز کی ا?ن لائن میٹنگ میں لیا گیا جس کی صدارت اے ا?ئی پی ای ایف کے چیئرمین شلیندر دوبے نے کی۔بیان کے مطابق مجوزہ بل میں ایک ہی علاقے میں متعدد بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو مشترکہ انفراسٹرکچر استعمال کرتے ہوئے خدمات فراہم کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ بل میں بجلی کے نرخوں کو حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کرنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ صنعتی صارفین کے لیے کراس سبسڈی کو ا?ئندہ پانچ برسوں میں ختم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔بجلی ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس بل پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کی تھی اور ملک بھر کی تقریباً تمام فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینوں نے اس کی مخالفت کی تھی، تاہم ان ا?راء￿ کو نہ تو عوام کے سامنے رکھا گیا اور نہ ہی مشاورتی اجلاسوں کی تفصیلات جاری کی گئیں۔شیلندر دوبے نے الزام لگایا کہ 30 جنوری کو وزارتِ بجلی نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جس میں ا?ل اندیا دسکماس ایسو سی ایشن کو شامل کیا گیا، جو بجلی کے شعبے میں نجکاری کی حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کو قانون کی تیاری کے عمل میں شامل کرنا پورے عمل کو جانبدار اور غیر شفاف بناتا ہے۔ادھر این سی سی او ای ای ای نے 9 مارچ کو نئی دہلی میں ایک اہم اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کو مدعو کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں بل کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت کریں۔تنظیموں نے اپنے تمام وابستہ ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ 10 مارچ کی ہڑتال کے لیے تیار رہیں اور اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیں۔