north kashmir Transport commetee

بتہ مالو سرینگر میں گاڑیوں کو کھڑارکھنے کا معاملہ

نارتھ کشمیر ٹرانسپورٹ کارڈی نیشن کمیٹی کا احتجاج ،معاملہ پر نظر ثانی کا کیامطالبہ

سرینگر//بتہ مالو سرینگر میں گاڑیوں کو کھڑارکھنے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے پہلے ہی پابندی عائد کی گئی ہے جس سے شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق بتہ مالومیں گاڑیوں کو اسٹینڈ رکھنے والے معاملے کو لیکر نارتھ کشمیر ٹرانسپورٹ کارڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے ہیڈ کواٹر بارہمولہ میں ایک غیر معمولی میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔جس میں بانڈی پورہ ،کپوارہ ،ہندوارہ ،سوپور ،بارہمولہ ،ٹنگمرگ ،پٹن اور اوڑی ودیگر علاقہ جات وقصبہ جات کے ٹرانسپورٹرس نے شرکت کی میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیرمین محمد شفیع میر نے کی جبکہ کمیٹی کے آرگنائزر اور بارہمولہ ٹیکسی اونرس کے پرزیذیڈنٹ ارشاد احمد آہنگر بھی موجود تھے میٹنگ میں تنظیمی اموارت کے ساتھ ساتھ ’’بتہ مالو سرینگر میں گاڑیاں کھڑا رکھنا‘‘ڈرائیوروں کو درپیش اہم مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس دوران میٹنگ میں شامل افراد نے کہا کہ وہ قطعی طور معزز عدالت عالیہ کے احکامات کے خلاف نہیں ہیں بلکہ انہیں اس بات پر تشویش اور تذبذب برقرار ہے کہ اگر سرینگر کے ڈرائیور بتہ مالو میں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی گاڑیاں کھڑا کرسکتے ہیں تو شہر سے باہر رہنے والے ڈرائیوروں پر ٹریفک اور پولیس اہلکاروں کی تلوار کیوں لٹکتی رہتی ہے ؟میٹنگ سے باہر آکر انہوں نے احتجاج کرکے سرکار کو باور کرنا چاہا کہ انہیں نیو بس اسٹینڈپارمپورہ میں گاڑیاں کھڑا کرنے کے احکامات صادر کئے گئے لیکن سرینگر جانے والے مسافر بتہ مالو تک لے جانے کی ضد کرتے ہیں اور پارمپورہ سے شمالی کشمیر کی طرف سفر کرنے والے مسافروں کو پارمپورہ پہنچنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں جس سے ان کو گھنٹوں ہا انتظار کرنے کے بعد بھی سواریاں نہیں ملتی ہیں ۔ان کے بقول سرینگر شہر میں رہائش پذیر ڈرائیوں نے پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے اور گشتی پارٹی پہنچنے سے پہلے ہی ان کو خبر ملتی ہے جس سے وہ ہر وقت جرمانہ اور چالان سے نجات حاصل کرسکتے ہیں جبکہ شمالی کشمیر کے ڈرائیوروں پر ہی یہ قانون چلایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈرائیوروں پر جرمانہ عائد کیا گیا ۔یہاںتک گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے سرکار کی توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ بنک لون پر گاڑیاں نکالی گئی ہیں اور ہر ماہ بنک قسطوں کی ادائیگی لازمی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات مہنگے ہیں اور یہی گاڑیاں ان کے روزگا ر کاواحد وسیلہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اب شش پنج میں پڑے ہوئے ہیں کہ وہ اگر عدالتی احکامات وسرکاری ہدایات کی پاسداری کریں تو ان کو سواریاں نہیں ملیں گی تو ان کے روزگا ر کاکیا ہوگا ؟ اور کس طرح بنک قرضوں کی ادائیگی کو ممکن بنا سکیں گے ؟اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سنجیدہ نوعیت کے معاملے کی طرف توجہ مبذول کرکے نارتھ کشمیر کے ڈرائیوروں کے روزگار کو بچانے میں اپنارول ادا کریں اور کوئی متبادل انتظام کیا جائے تاکہ شمالی کشمیر کے ڈرائیوروں کا روز گار بھی متاثر ہونے سے بچ جائے اور ان کا اہل وعیال فاقہ کشی کا شکار نہ ہوسکے ۔