ببیلا رَکوال نے آئی آئی ٹی جموں میں دو روزہ تحقیق و ترقی ور کشاپ کا اِفتتاح کیا

کہا، سائنس کو لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے اور لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے

جموں// کمشنر سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ ببیلا رکوال نے منگل کے روز نتیجہ پر مبنی تحقیق اور شفاف سائنسی حکمرانی کی طرف فیصلہ کن تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں سائنس کو شعوری طور پر عوامی خدمات کی فراہمی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دوبارہ متعارف کیا جا رہا ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف تعلیمی اِداروں تک محدود رہے۔کمشنر سیکرٹری آئی آئی ٹی جموں میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈِی) منصوبوں پر منعقدہ دو روزہ ورکشاپ و اِستفساری پروگرام کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ اِس پروگرام میں یونین ٹیریٹری کی مختلف یونیورسٹیوں، تکنیکی اِداروں اور تحقیقی تنظیموں سے تقریباً 187 پرنسپل انویسٹی گیٹروں نے شرکت کی ۔یہ پروگرام محکمہ کی جانب سے کئے گئے اہم ترین ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے جس کا مقصد تحقیقاتی معاونت کے نظام کا جائزہ، بہتری اور ازسرنو ترتیب دینا ہے۔ اِس میں زراعت، بائیوٹیکنالوجی، صحت عامہ، اِنجینئرنگ، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی سائنس، موسمیاتی تبدیلی اور اُبھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں سمیت مختلف شعبہ جات شامل ہیں۔اِفتتاحی سیشن کے شروعات میں ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں جموں و کشمیر کے شہری، دیہی اور دُور دراز علاقوں میں تحقیق کے فروغ، سائنسی رَسائی، اِختراع اور صاف توانائی کے میدان میں محکمہ کی کاوشوں کو اُجاگر کیا گیا۔ اِس موقعہ پر تحقیق و ترقی ) آر اینڈ ڈِی) منصوبوں کی وسط مدتی جائزہ رِپورٹ جاری کی گئی، آن لائن آر اینڈ ڈِی مینجمنٹ پورٹل کا آغاز کیا گیا اور سائنس ٹیلنٹ پروموشن سکالرشپ پروگرام کے تحت مستحقین میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ببیلارَکوال نے وسط مدتی جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پبلک فنڈ ڈریسرچ کا باقاعدہ اور سخت جائزہ ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد سے ہم آہنگ رہے اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں نگرانی کو محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ تحقیقاتی نظم و نسق کا لازمی جزو سمجھا جائے گا تاکہ جوابدہی، معیار اور افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔کمشنر سیکرٹری موصوفہ نے آن لائن آر اینڈ ڈِی پروجیکٹ مینجمنٹ پورٹل کے آغاز پر اسے ایک اہم انتظامی اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تحقیقاتی تجاویز کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ یہ پورٹل ڈیجیٹل جمع آوری، منظم جانچ، حقیقی وقت سے باخبر رہنے اور منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی سہولیت فراہم کرے گا جس سے تاخیر کم ہوگی، دستی مداخلت کم ہوگی اور فیصلہ سازی میں شفافیت بڑھے گی۔اُنہوں نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لئے ایک جامع ویژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کو براہِ راست حکمرانی میں بہتری، عوامی اداروں کی مضبوطی اور مقامی مسائل کے حل میں کردار اَدا کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ سائنس اَب چاہے وہ توانائی کی دستیابی ہو، زرعی طریقوں میں بہتری، عوامی ڈھانچے کی کارکردگی یا خدمات کی مؤثر فراہمی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔کمشنر سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ محکمہ کا نقطہ نظر اس اصول پر مبنی ہے کہ تحقیق با مقصد، باہمی تعاون پر مبنی اور نتائج پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحقیق کی اصل قدر منصوبوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے زمینی اثرات میں ہے۔ اُنہوں نے محققین پر زور دیا کہ وہ عملی اپیلی کیشنز، بین الشعبہ جاتی تعاون اور پالیسی سے ہم آہنگی پر توجہ دیں۔اُنہوں نے سکل ڈیولپمنٹ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک باصلاحیت اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اَفرادی قوت کی تیاری اِختراع کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ سکول سے لے کر جدیدتحقیق تک سائنسی صلاحیتوں کے فروغ اور علم کو روزگار، کاروبار اور سماجی شمولیت سے جوڑنے کے لئے پُرعزم ہے۔ببیلا رَکوال نے دیرپائی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی اَقدامات کو صاف توانائی، وسائل کے مؤثر اِستعمال اور ماحولیاتی توازن کے فروغ میں معاون ہونا چاہیے بالخصوص ایسے خطے میں جہاں نازک ماحولیاتی نظام اور متنوع جغرافیائی چیلنجز ہیں۔اُنہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عمارتوں کی بڑے پیمانے پر سولرائزیشن، زرعی سولر پمپوں کا فروغ، دیہی علاقوں میں شمسی روشنی کی توسیع اور چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ترقی نہ صرف توانائی کے تحفظ میں مددگار ہیں بلکہ اخراجات میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی معاون ہیں۔
کمشنر سیکرٹری نے تحقیق اور اِختراع کے بارے میں کہا کہ آر اینڈ ڈِی منصوبوں کی فنڈنگ، سائنسی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی رَسائی سرگرمیوں کے ذریعے ادارہ جاتی معاونت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ریجنل سائنس سینٹرز، انوویشن و ڈسمینیشن سینٹرز اور بائیوٹیکنالوجی پارکس جیسے ادارے اختراع، انکیوبیشن اور علم کی ترسیل کے لئے پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔اُنہوں نے تحقیقاتی منصوبوں کے انتخاب اور نگرانی میں شفافیت اور منظم حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معروضی معیار، ماہرین کی رائے اور ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگی منصوبوں کی منظوری میں رہنما اصول ہوں گے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر اِستعمال ہو اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کئے جا سکیں۔کمشنر سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے ورکشاپ کو ایک تعلیمی اور انتظامی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام محققین، ماہرین اور پالیسی سازوں کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام میںروایتی فائلوں پر مبنی جائزے کے برعکس محققین کو اپنا کام پیش کرنے، ماہرین سے تبادلہ خیال کرنے اور تعمیری فیڈ بیک حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے جوابدہی اور معیار میں بہتری آتی ہے۔دو روزہ پروگرام میں موضوعاتی مباحث، تفصیلی پرزنٹیشنز اور ماہرین کے ساتھ گفتگو شامل ہے جس سے جاری منصوبوں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ اس عمل کے نتائج کو مرتب کرکے علیحدہ طور پر شائع کیا جائے گا تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی، نگرانی کے نظام کی مضبوطی اور تحقیقاتی فنڈنگ کی سمت متعین کی جا سکے۔اِفتتاحی سیشن ماہرین کی عزت افزائی اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی تیسرے فریق کے جائزے سے وابستہ ماہرین کے اعزاز کے بعد شکریہ کی تحریک کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ڈپٹی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبدالخبیر نے پروگرام کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے۔اِس موقعہ پرسپیشل سیکرٹری ریاض احمد وانی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اے کے اِی ڈِی اے ڈاکٹر پی آر دھر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جے کے ایس ٹی آئی سی ڈاکٹر مشتاق احمد بٹ، ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی آئی آئی ٹی جموں پروفیسر دورائی پربھاکرن آر ٹی، ڈین فیکلٹی افیئرز پروفیسر بچم ایشور ریڈی، پروفیسر امبیکا پرساد شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری نیلم کھجوریہ اور انشومن سنگھ، جوائنٹ ڈائریکٹر بلال احمد سمیت دیگر سینئر افسران، سائنسدان اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔