62اقسام کے 15لاکھ رنگ برنگے پھول سیاحوں کا استقبال کرنے کیلئے منتظر
نعیم الحق
سرینگر//شاہراہ آفاق جھل ڈل کے کنارے اور دلکش زبرون پہاڑیوں کی گود میں ایشا کا سب سے بڑا باغ گل لالہ کو 23مارچ کو مقامی و غیر مقامی سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا۔ باغ گل لالہ میں فی الوقت 15لاکھ ٹولپ سیاحوں کا استقبال کرنے کیلئے لہلا رہے ہیں۔اس باغ میں امسال 62 اقسام کے گل لالہ موجودہیں اور آیندہ 15 دِن کے دوران مزید ہزاروں رنگ برنگے پھول کھلنے والے ہیں۔ شہرہ آفاق ڈل جھیل کے مشرقی کنارے پر سطح سمندر سے 5600 فٹ کی بلندی پر واقع 30 ہیکٹرسے زائد خطہ اراضی پر جو پہلے ’سِراج باغ‘ کہلاتی تھی یہ باغ پھیلا ہوا ہے۔محکمہ کے ایک افسر نے بتایا ’ہمیں امید ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح باغ گل لالہ دیکھنے آئیں گے‘‘۔ سال 2014 میں جب یہ باغ سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا تھا تو صرف پہلے7 دنوں کے دوران 40 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے اس باغ کی سیر کی تھی۔ گزشتہ 10 برسوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف کونوں اور غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے باغ گل لالہ دیکھنے میں دلچسپی دکھائی۔ اس مختصر عرصے کے دوران اس باغ میں جنوبی ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور بالی وڈ کی کئی فلموں کے نغمے فلمائے گئے۔باغ گل لالہ میں ٹیولپ کے ہزاروں پودوں پر رنگ بہ رنگی پھولوں کو کھلے ہیں،جبکہ سرخ، پیلے ، سنتری، جامنی، سفید، گلابی، طوطے ، پیلے، دو رنگی اور سہ رنگی پھولوں نے پہلے ہی چاروں اطراف دھنک کے رنگوں کے دلکش نظارے بکھیردیے ہیں۔باغ میں پھولوں کی ایک نئی اور مختلف کھیپ پندرہ دن کے اندر اندر کھِلے گی اور اس طرح باغ کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے سامان پیدا کردئے گئے ہیں، نیز پھولوں کی نئی اقسام ہالینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک سے درآمد کی گئی ہیں جس سے باغ ہالینڈ کے کوئیکن باغِ گلِ لالہ سے مشابہ لگتا ہے۔ محکمہ پھولبانی کے ایک افسرنے بتایاامسال سیلانیوں کو راغب کرنے کے لئے باغ میں62نئے پھولوں کے اقسام کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ شام دیر گئے تک بیٹھنے کے لئے روشنیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے جو پہلے نہیں ہوا تھا جس کی مدد سے زیادہ زیادہ سے لوگ باغ گل لالہ سیر کریں گے ۔ ڈائریکٹر فلورکلچرکشمیر فاروق احمد راتھرنے بتایا کہ اس سال باغ میں پندرہ لاکھ گل لالہ اگائے گئے ہیں۔ 62 اقسام کے گل لالہ آئندہ چند دنوں میں کھلیں گے ، جس کے بعد اس باغ کو عام لوگوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ڈائریکٹر فلورکلچر کشمیر کا کہنا ہے کہ محکمہ نے ٹولپ گارڈن کی تشہیر کے لئے پہلے ہی کئی اقدامات کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو باغ گل لالہ کی طرف راغب کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ باغ گل لالہ کی سیر کیلئے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ باغ کے باہر مختلف اسٹال بھی لگائے جائیں گے ، جہاں کشمیر کی دستکاریوں ، کشمیر کے کھان پان اور یہاں کی تہذیب و تمدن کی عکاسی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ باغ میں جانے کے لئے سرکار نے انٹری ٹکٹ اجرا کرنے کا کام گزشتہ برس کی طرح ہی نجی کمپنی کو سونپ دیا ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر کشمیر کووڈ کی وبا کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد سے کافی خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جولائی دو ہزار بیس سے سیاحوں نے دوبارہ وادی کشمیر کا رخ کرنا شروع کیا اور پندرہ مارچ تک لگ بھگ 63 ہزار سیاح وادی آچکے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر سیاح موسم سرما کے دوران ہی وارد کشمیر ہوئے اور آغاز میں زیادہ تر سیاحوں نے گلمرگ کا رخ کیا۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں تیرہ ہزار سیاح گلمرگ آئے جبکہ جنوری دو ہزار اکیس میں یہ تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہزار ہوگئی۔ فروری اور مارچ کے مہینوں کے دوران سیاحوں نے گلمرگ کے ساتھ ساتھ پہلگام اور سرینگر کے اطراف کا بھی رخ کیا۔کشمیر ہوٹل اینڈ ریستوران ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری نے بتایا کہ اس سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کشمیر کا رخ کر سکتی ہے اور یہ تب ممکن ہے جب یہاں حالات ٹھیک رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جون تک ہوٹلوں میں90فیصد بکنگ ہو چکی ہے ۔سرما کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سال سب سے زیادہ سیاح گلمرگ اور پہلگام کی سیر کیلئے آئے اور ہوٹلوں میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔تاہم سرینگر کے ہوٹل مالکان کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا ۔انہوں نے کہا کہ رواں سا ل انہیں امید ہے کہ بھاری تعداد میں سیاح وادی کا رخ کر سکتے ہیں جبکہ ہاوس بوٹ مالکان بھی بکنگ سے کافی خوش ہیں اور اچھے حالات کی امید کر رہے ہیں ۔محکمہ سیاحت کے کمشنر سکریٹری سرمد حفیظ نے بتایا کہ رواں سال سیاحوں کو جموں وکشمیر کی طرف راغب کرنے کیلئے تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کی تشہر محکمہ نے بڑے پیمانے پر شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ سرینگر ایئر پورٹ کے علاوہ ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر ہورڈنگ نصب کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں محکمہ کی ایک ٹیم نے احمدآباد، بنگلور اور ملک کے دیگر شہریوں میں ایک مہم چلائی جبکہ ابھی ایک ٹیم ڈائریکٹر سیاحت کی سربراہی میں ممبئی میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بار سونہ مرگ کو برف باری کے دوران بھی سیاحوں کی آمد ورفت کیلئے کھلا رکھا گیا، جبکہ دودھ پتھری میں بھی سرما میں کافی سرگرمیاں شروع کی گئیں ۔










