جموں//پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیری سرکاری ملازمین کو ‘ملک کی سلامتی کے مفاد میں’ ملازمت سے فارغ کرنے کی حکومتی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ باپ کی سزا بیٹے اور بیٹے کی سزا باپ کو نہیں دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کا مقصد جموں و کشمیر کو لوٹنا تھا۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کسی دوسرے ملک نے جموں وکشمیر کو نہیں دیے تھے بلکہ ان قوانین کو مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت آئے روز جموں و کشمیر کے لئے نئے فرامین جاری کرتی ہے اور دربامو کی روایت کا خاتمہ تازہ فرمان ہے۔محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر جموں سے تعلق رکھنے والے سینیئر وکیل انیل سیٹھی نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کشمیری سرکاری ملازمین کی برطرفی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ‘بیٹے کو باپ کی سرگرمیوں کی سزا نہیں دی جا سکتی اور اسی طرح بیٹے کی سزا باپ کو نہیں دی جا سکتی۔ اگر آپ کے پاس بیٹے کے خلاف ثبوت ہیں تو آپ کارروائی کر سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘یہ صرف 11 لوگ نہیں ہیں جن کو برطرف کیا گیا ہے۔ ان لوگوں نے اب تک 20 تا 25 ملازمین کو برطرف کیا ہے۔ انکوائری ججمنٹ نہیں۔ انکوائری جاری ہے لیکن جرم ثابت نہیں ہوا ہے ایسے میں آپ کیسے یہ فیصلہ لے سکتے ہیں کہ فلاں مجرم ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد سے جموں و کشمیر میں لوگوں کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں اور دودھ و شہد کی ندیاں کہیں بہتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا: ‘میں گذشتہ کچھ روز سے یہاں کئی وفود سے ملی تو معلوم ہوا کہ جو مرکزی حکومت نے بتایا تھا کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد جموں وکشمیر میں دودھ کی ندیاں بہیں گی، ہر طرف شہد ہی شہد ہوگا لیکن اس کے مقابلے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے مشکلات مزید بڑھ گئے ہیں۔پی ڈی پی صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت سنہ 1947 سے پہلے حاصل تھی۔ان کا کہنا تھا: ‘ہمار خصوصی حقوق 1947 سے پہلے حاصل تھے۔ ہمارا بھارت کے ساتھ مشروط الحاق ہوا ہے۔ اگر آپ کے گھر سے کوئی چیز لوٹی جاتی ہے تو کیا آپ وہ چیز واپس لانے کی کوشش نہیں کریں گے؟محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دفعہ 370 کسی دوسرے ملک نے نہیں دیا تھا۔انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر کو دفعہ 370 اور 35 اے کسی دوسرے ملک نے نہیں دیا تھا بلکہ ان قوانین کو مہاراجہ ہری سنگھ نے یہاں کے تمام لوگوں، مسلمانوں، ڈوگروں، گوجروں، قبائیلوں کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان دفعات کے خاتمے کا مقصد جموں و کشمیر کو لوٹنا تھا اور آج باجری جیسی معمولی چیز کو لوٹا جا رہا ہے۔موصوفہ نے کہا کہ ان دفعات کی تنیسخ کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں و کشمیر ملک کے ساتھ مل گیا جیسے یہ پہلے ملک کے ساتھ ملا ہوا نہیں تھا۔محبوبہ مفتی نے بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح نے ایک بار ملک کا بٹوارہ کیا لیکن بی جے پی روز لوگوں کا بٹوارہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا: ‘یہ لوگ توڑنے کا کام کرتے ہیں اور ہم جوڑنے کا کریں گے۔ محمد علی جناح نے ایک بار زمین کا بٹوارہ کیا اور ہم جموں و کشمیر کے لوگ آج تک بھگت رہے ہیں۔ یہ جماعت زمین کا نہیں بلکہ لوگوں کا بٹوارہ کر رہی ہے۔ ہر گلی کوچے کا بٹوارہ کر رہی ہے۔ اگر ہم ان کو روکیں گے نہیں تو اس کا خمیازہ ہماری آنے والی سات نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی اقتصادی حالت روز بروز کمزور ہو رہی ہے اور ہماری سماجی ساخت پر حملے ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘ہماری مالی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے اور ہماری سماجی ساخت پر حملے ہو رہے ہیں روز بر روز نئے فرامین جاری کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘دربار مو کی روایت کا خاتمہ تازہ فرمان ہے یہ مہاراجہ ہری سنگھ کے وقت میں تھا اس میں اقتصادیات کی بات نہیں تھی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سردیوں میں لوگ جموں جائیں تاکہ لوگوں کی آپس میں بات چیت ہو، یہ بھائی چارے کی ایک بنیاد تھی۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں ایک ایسا خطہ ہے جہاں مختلف مذہبوں اور ذاتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ یہ سب لوگ مل جل کر بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں لیکن ان میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں مندروں کا شہر ہے اس کو شراب کا شہر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کا فائدہ یہاں کے دکانداروں کو نہیں بلکہ دوسرے علاقوں کے دکانداروں کو مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے کہا جا رہا تھا کہ جموں وکشمیر پسماندہ ہے جبکہ ہم کئی علاقوں سے بہت آگے ہیں لیکن اگر ہمارے اقتصادیات پر اسی طرح حملے جاری رہے تو ہماری حالت بدتر ہوسکتی ہے۔محبوبہ مفتی نے پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘جموں و کشمیر کے لوگوں کی امیدیں پی اے جی ڈے کے ساتھ جڑی ہیں۔ اگر اتحاد میں کوئی جماعت اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی بات کرتی ہے تو اس بات کا پی اے جی ڈی کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ اتحاد خصوصی دفعات کی واپسی کے لئے وجود میں آیا ہے۔










