ضلع انتظامیہ کی بروقت مداخلت سے کھیت و کھلیاںسیراب
سرینگر//ضلع بانڈی پورہ کے کئی دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے کھیت سوکھ رہے تھے اور کسانوں کی فصل تباہ ہونے کے خطرے میں تھی۔ تاہم، ضلع انتظامیہ کی بروقت مداخلت نے کسانوں کو اس مشکل وقت میں سہارا دیا ہے اور ان کی فصلوں کو بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ترکہ پورہ، منگی پورہ، کوئل مقام، ملنگام، سیر محلہ، آلوسہ اور دیگر بستیوں کے باشندے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے تھے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق گرمی کی شدت اور بارشوں میں کمی کی وجہ سے کھیت سوکھ رہے تھے اور فصل تباہ ہونے کے آثار نظر آ رہے تھے۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی کیونکہ زراعت ان کی معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر اقدامات کیے۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ، محکمہ پی ایچ ای کے چیف ایگزیکٹو افسر اور ڈی ڈی سی کے نائب چیئر پرسن کوثر شفیق نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا اور کسانوں کی مدد کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ انہوں نے این ایچ پی سی کے تعاون سے ایک موٹر نصب کرائی جس کے ذریعے متاثرہ دیہاتوں میں پانی کی فراہمی شروع کردی گئی۔عبدالمجید خان، الطاف احمد خان، علی محمد بٹ، محمد یوسف اور شمس الدین سمیت مختلف دیہاتوں کے معتبر شہریوں نے ضلع انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقے دہائیوں سے پانی کی قلت کا شکار ہیں لیکن ضلع انتظامیہ نے پہلی بار اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موٹر کے نصب ہونے سے ان کے کھیتوں کو پانی مل رہا ہے اور ان کی فصل بھی تباہ ہونے سے بچ رہی ہے۔کسانوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ وہ ضلع انتظامیہ اور این ایچ پی سی کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس موٹر نے نہ صرف ان کی فصلوں کو بچایا بلکہ ان کی زندگیوں میں بھی خوشیوں کی بہار لادی ہے۔ ضلع انتظامیہ کی اس کامیاب کوشش سے دیگر علاقوں کے لوگ بھی امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں جو پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ کو اس مسئلے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عوام کو بھی پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قیمتی وسائل کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔










