ثقافت، جذبات اور خود کفالت کی روزن داستان، عزم سچا ہو تو بْھولے ہوئے دھاگے بھی زندہ تاریخ بن سکتے ہیں
سرینگر//یو این ایس// وادی کے پْرسکون گاؤں آرہ گام میں، جہاں پہاڑ خاموشی کو اپنے دامن میں سمیٹے کھڑے ہیں، سوئی دھاگے کی ہلکی جنبش ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ یہ محض کڑھائی نہیں، بلکہ نسلوں سے چلے آ رہے نقوش کی واپسی ہے—ایک ایسی واپسی جس کے پیچھے ایک عورت کا عزم کھڑا ہے۔ یو این ایس کے مطابق بانڈی پورہ کی قبائلی تہذیب کبھی رنگوں، زیورات اور مخصوص لباس کے سبب پہچانی جاتی تھی، مگر وقت کی گرد نے ان روایات کو دھندلا دیا تھا۔ شاہدہ خانم نے اس خاموشی کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ کشمیر ٹرائبل آرٹ سوسائٹی کی سربراہ ہیں—ایک ایسا ادارہ جو نہ صرف ثقافت کو زندہ رکھ رہا ہے بلکہ سینکڑوں خواتین کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔2016 میں شاہدہ خانم کو رنگہ بل پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جو مدھیہ پردیش میں منعقد ہوا۔ وہاں مختلف ریاستوں کے قبائلی افراد اپنے روایتی لباس اور ثقافتی شناخت کے ساتھ موجود تھے۔ ہر لباس ایک کہانی سنا رہا تھا، ہر رنگ تاریخ کی گواہی دے رہا تھا۔شاہدہ کہتی ہیں’’میں نے دیکھا کہ دوسری ریاستوں کی ثقافت اور لباس آج بھی مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ جب میں نے اپنے لوگوں کی طرف دیکھا تو محسوس ہوا کہ ہماری پہچان صرف روایتی ٹوپی ’لشکا‘ تک محدود ہو چکی ہے۔‘‘اسی لمحے ان کے دل میں ایک عہد جاگا—بانڈی پورہ کی ثقافت خاموشی میں گم نہیں ہونے دی جائے گی۔دسمبر 2022 میں شاہدہ نے ایک مختصر ورک اسپیس قائم کیا جہاں سلائی اور کپڑے کی تیاری کا کام شروع ہوا۔ صرف چار ہفتوں میں پچاس نوجوان لڑکیاں اس مرکز سے جڑ گئیں۔ یہ محض ہنر سیکھنے کا مرکز نہیں تھا، بلکہ اپنی جڑوں کی طرف واپسی کا سفر تھا۔شاہدہ نے جدید فیشن پر اکتفا نہیں کیا۔ وہ قبائلی بزرگوں کے پاس گئیں، ان سے پرانے لباس کے انداز، زیورات اور روایتی نقوش کے بارے میں سیکھا۔ پرانی چاندی کے زیورات گھروں سے جمع کیے گئے، موتیوں کی مالائیں ہاتھوں سے تیار ہوئیں، اور وہ لباس دوبارہ تخلیق کیے گئے جو برسوں سے نظروں سے اوجھل تھے۔سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے کام کی خبر پھیلی تو مقامی میڈیا کی معروف آواز وحید رفیق نے ان کے مرکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا’’یہ صرف چیزیں بنانے کا کمرہ نہیں، یہ یادوں کو شکل دینے کی جگہ ہے۔‘‘اسی خیال نے شاہدہ کے مرکز میں ایک باقاعدہ میوزیم کی بنیاد رکھ دی، جہاں قبائلی زندگی کی جھلک محفوظ کی گئی ہے—لباس، زیورات اور وہ سب کچھ جو ایک تہذیب کی روح کو بیان کرتا ہے۔شاہدہ کے کام کو اس وقت قومی سطح پر پذیرائی ملی جب انہیں چشمہ شاہی میں صدر جمہوریہ درپدی مرموکے سامنے اپنے ڈیزائن پیش کرنے کی دعوت ملی۔وہ فخر سے کہتی ہیں’’ہماری کوشش تھی کہ اپنی روایت کو براہِ راست ملک کی سب سے بڑی قیادت تک پہنچائیں۔‘‘شاہدہ خانم کا مشن صرف روایتی لباس کی بحالی تک محدود نہیں۔ اب تک تقریباً 500 نوجوان خواتین ان کے مراکز سے تربیت حاصل کر چکی ہیں۔ کوئل مقام، ترکپورہ اور منتری گام میں قائم تین مراکز مقامی لڑکیوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا ہے’’گھر سنبھالنا اور بچوں کی پرورش کرنا ہر عورت کے لیے چیلنج ہوتا ہے، مگر اگر خاندان اور معاشرہ ساتھ دے تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔‘‘ان کے اس سفر میں خاندان، مقامی عمائدین اور گوجری ثقافت کے معروف محقق ڈاکٹر جاوید راہی جیسے افراد کی حمایت شامل رہی ہے۔میوزیم کے ایک گوشے میں بیٹھ کر شاہدہ خانم نوجوانوں کو نصیحت کرتی ہوئی کہتی ہے’’ایسا کام کرو جو کسی نے نہ کیا ہو، جو تمہاری پہچان بن جائے۔ ایمانداری سے کام کرو،جو تمہارے لیے بھی اچھا ہو اور تمہارے گھر کے لیے بھی۔‘‘آج بانڈی پورہ کی فضاؤں میں جب سوئی دھاگہ چلتا ہے تو وہ صرف کپڑا نہیں سیتاوہ ایک قوم کی یادداشت کو جوڑتا ہے۔ شاہدہ خانم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم سچا ہو تو بْھولے ہوئے دھاگے بھی زندہ تاریخ بن سکتے ہیں۔










