سیب معیشت کیلئے’ اے آئی‘ اقدام، زرعی یونیورسٹی میں خصوصی مرکز قائم
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر میں سیب اور دیگر اعلیٰ قدر والی فصلوں کی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جون 2024 میں شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیرمیں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کا خصوصی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد باغبانی کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی کو فروغ دینا ہے۔یو محکمہ کے مطابق مرکز بیماریوں اور کیڑوں کے اے آئی پر مبنی انتظام، ذہین باغ نگرانی نظام، خودکار مشینوں کے ذریعے باغی کارروائیاں، سیب کی اندرونی معیار کی بغیر نقصان جانچ، اور سینسر سے مربوط فرٹیگیشن سسٹمز پر کام کر رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکز کو وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (میٹی)، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی) سے مالی معاونت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مرکز مختلف قومی اداروں کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے جن میں سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی،ڈیک)، سی ایس آئی آر، سینٹرل مکینیکل انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، سینٹرل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی منڈی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روپڑ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اشتراک درست اور مؤثر باغی انتظام کو فروغ دینے، تحقیق اور اختراعات کو تقویت دینے اور ٹیکنالوجی کی زمینی سطح پر منتقلی کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔محکمہ کے مطابق مختلف زرعی موسمی خطوں میں آئی سی ٹی سے لیس نظام اور لورا بیسڈ سینسر نیٹ ورک نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ حقیقی وقت میں باغات کی نگرانی ممکن ہو سکے۔ سینسر پر مبنی اسمارٹ زراعت کیلئے الگورتھم کی تیاری جاری ہے تاکہ باغ کی سطح پر ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں۔اہم سیب بیماریوں جیسے اسکیب، آلٹرنیریا اور پاوڈری ملی ڈیو کی شناخت کیلئے اے آئی پر مبنی ماڈلز پر کام جاری ہے، جبکہ کیڑوں اور بیماریوں کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی ڈیش بورڈ بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بروقت اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔محکمہ کے مطابق ڈی ایس ٹی کے مالی تعاون سے ایک پیٹنٹ شدہ ذہین ہدفی اسپرے نظام تیار کیا گیا ہے جو ہائی ڈینسٹی باغات میں کیمیائی ادویات کے استعمال کو کم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسی طرح میٹی کی معاونت سے سیب میں اندرونی خرابیوں کی بغیر نقصان جانچ کیلئے اے آئی سسٹم بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس سے گریڈنگ اور مارکیٹ ویلیو میں اضافہ متوقع ہے۔ایچ اے ڈی پی،17 (سینسر بیسڈ اسمارٹ ایگریکلچر) کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے فرٹیگیشن سسٹمز کو سینسر نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ پانی اور غذائی اجزاء کی فراہمی کو حقیقی وقت کے ڈیٹا کی بنیاد پر بہتر بنایا جا سکے۔حکومت کے مطابق یہ تمام اقدامات جموں و کشمیر کے باغبانی شعبے کو جدید بنانے، خودکار نظام متعارف کرانے اور اے آئی پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس سے خطے کی سیب معیشت کو طویل مدتی استحکام ملنے کی توقع ہے۔










