سری نگر/ /باغبانی جموں وکشمیر کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے اور یہاں کی معیشت میں بہت زیادہ حصہ رکھتی ہے۔یہ شعبہ اِس سے وابستہ لوگوں کی مالی حالت کو مضبوط کرتا ہے اور غربت کے خاتمے ، روزگار پیدا کرنے اور جموںوکشمیر یوٹی کے دیگر ترقیاتی پہلوئوں میں بھی مدد کرتا ہے۔جموںوکشمیر کی باغبانی مصنوعات کی مختلف قسمیں اَپنے اچھے معیار اور ذائقے کی وجہ سے دُنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہیں ۔ یہاں اُگنے والی پھلوں کی فصلیں جیسے سیب ، بادام اخروٹ ، ناشپاتی ، چیری اور خوبانی معتدل علاقوں میں اور آم ، لیموں ، لیچی ، پپیتا ، اَمرود وغیرہ دُنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جموں و کشمیر میں زعفران کی کاشت دنیا میں منفرد ہے کیوں کہ یہاں دُنیا کا بہترین زعفران پیدا ہوتا ہے۔جموںوکشمیر کی باغبانی ترقی کر رہی ہے کیوں کہ نیچرل پروڈکٹس کی صنعت کی طرف سے تیار کردہ سالانہ 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ حاصل کیا ہے جو مجموعی سٹیٹ گھریلو پیدا وار (جی ایس ڈی پی )میں 8فیصد کا حصہ ہے۔اِس شعبے سے پبلک اَتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 35 لاکھ نفوس کے 7.5 لاکھ کنبے وابستہ ہیں۔
یہ شعبہ جموںوکشمیر کے نوجوانوں کے لئے خود روزگارکے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک اہم شعبے کے طور پر اُبھرا ہے۔جموںوکشمیرمیں پیدا ہونے والے پھلوں کے بھرپور معیار سے متاثر ہو کر اور باہر نارکٹس میں بڑی مانگ ہے ۔ ضلع کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والے اِنڈین نوی کے ایک سابق فوجی دھیرج کمار نے زرعی کاروبار میں تبدیل کیا ہے ۔ کمار ہیرا نگر لائن سب ڈویژن میں واقع اَپنے مقامی ہری پور قصبے میں 22 کنال (2.75 اراضی کے حصے)پر کھیتوں میں شہتوت کی تین اقسام کیماروسا ، ونٹر ڈان اور نوبیلا تیار کرتا ہے ۔ شہتوت کی ترقی یہاں کاشت کرنے والے مقامی علاقے کے لئے ایک فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔
کمار کٹھوعہ ایگری کلچردفتر کا شکر یہ اداکرتاہے کہ وہ مالیاتی اور خصوصی مدد اور رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ اِس کے علاوہ اسے ٹیلر۔ میڈ پلانس سے واقف کیا جاتا ہے ۔کمار مشکلات پر قابو پانے کی اَپنی مثال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 10 اَفراد کو لیولنگ ، چننے ، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ مقاصد کے لئے ملازم رکھا ہے ۔ وہ پٹھان کوٹ اور پنجاب کے مضافات میں کٹھوعہ کو جوڑنے والے علاقوں میں شاپنگ سینٹروں اور اہم دکانوں کوشہتوت سپلائی کرتا ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ میں آن لائن فروخت کے آپشن کو بھی تلاش کر رہا ہوں ۔ میں چند ۔ اِی کامرس پلیٹ فارموں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہوں۔‘‘ اِس طرح سے اس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ سبسڈی کی رقم کو 13,000 روپے فی کنال تک بڑھا دی گئی ہے جبکہ پہلے 3,125 روپے فی کنال تھی جو ان جیسے نئے آنے والوں کے کے لئے ایک بڑی مشکل تھی۔
باغبانی میں زرعی صنعتوں کے قیام اور روزگار پیدا کرنے کے کافی مواقع موجود ہیں ۔ مرکزی اور جموںوکشمیر حکومتیں باغبانی شعبے کی ترقی کو وسعت دینے کے لئے پُر عزم ہے۔یہ شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کر کے ، پیداوار کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی ترقی ، ماحولیاتی ترقی اور جموںوکشمیر یوٹی میں غربت کے خاتمے سے اگلی دہائی کے دوران معیشت میں زبردست تبدیلی لاسکتا ہے۔2020-21ء میں3.33 لاکھ ہیکٹرکے رقبے پر پھلوں کی کاشت 20.35 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہارٹی کلچر جموںوکشمیر میں ایک اہم حصہ ہے اور معیشت میں بنیادی طور پر حصہ رکھتی ہے اور 33 لاکھ لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے ۔ باغبانی کی ترقی ایک اہم شعبہ ہے اور اس کی ترقی کے لئے متعدد پروگراموں کو عملایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں زیادہ آمدنی پیدا ہو رہی ہے ۔ اِس طرح دیہاتوں میں معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے ۔ جموں و کشمیر کی باغبانی مصنوعات کی مختلف قسمیں اپنے اچھے معیار اور ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکی ہیں۔مختلف فصلوں میں سیب اور اخروٹ اہم معتدل پھلوں کی فصلیں ہیں جو بالترتیب کل رقبہ کا تقریباً 75 فیصد اور پھلوں کی پیداوار کا 65 فیصد ہے۔ ہندوستان میں سیب کی کل پیداوار تقریباً 28 لاکھ میٹرک ٹن ہے اور اِس میں سے 20 لاکھ میٹرک ٹن جموں و کشمیر سے پیدا ہوتی ہے۔ پہلی بار جموں و کشمیر سے سبزیوں کے 2000 ٹرک ملک کے مختلف حصوں میں برآمد کئے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر نے دھان کی ہر ہیکٹر پر 70 کوئنٹل پیداوار سے پورے ملک میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔ ہم باسمتی کی کاشت کے 60,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے کو اعلیٰ پیداواری زمین میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ایپل مارکیٹ بھی 8000 کروڑ تک پہنچ گیا ہے اور اس شعبے سے جڑے 30 لاکھ لوگوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں پھلوں کی کاشت کا علاقہ 2001 میں 2.21 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 3.33 لاکھ ہیکٹر ہو گیا جس کے بعد بیس برسوں میں 1.22 لاکھ ہیکٹر کا اضافہ ہوا۔ایک طرف زراعت کے لئے زمین میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے لیکن دوسری طرف باغبانی کے رقبے میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے معیشتی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی میں پھلوں کی پیداوار میں اِضافہ ہوا ہے ۔ 2001ء میں پھلوں کی پیداوار10.9 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جواَب بڑھ کر 24.44 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی ہے ۔ سیب کا پھل پھلوں کی پیداوار میں زیادہ حصہ ہے ۔ اِسی عرصے میں سیب کی ترقی 9 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 18لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے ۔جموںوکشمیر کی ترقی میں اہم شراکت دار کے طور پر اُبھرتے ہوئے آنے والے برسوں میں باغبانی شعبہ پورے جموںوکشمیر کے معاشی منظر نامے کو بد ل دے گا۔










