فلوریکلچر آمدنی میں کمی، اقتصادی سروے میں ملا جلا رجحان سامنے آگیا
سرینگر/ یو این ایس// جموں و کشمیر میں باغبانی کا شعبہ معیشت کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے، جہاں پھلوں کی پیداوار میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم فلوریکلچر کے شعبے میں آمدنی میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق باغبانی کا شعبہ سالانہ تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی پیدا کر رہا ہے اور لگ بھگ 35 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر طریقہ کار اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پیداوار اور معیار میں بہتری آئی ہے، جبکہ سال بھر پھلوں کی دستیابی بھی ممکن بنائی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تازہ اور خشک میوہ جات کی پیداوار 2018-19کے 20.06 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2024-25میں 26.92 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جو کہ 34 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح پودوں کی تقسیم میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں 2021-22میں 6.41 لاکھ کے مقابلے میں 2024-25میں 29.13 لاکھ پودے تقسیم کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت باغبانی کے مختلف منصوبوں کیلئے 1028 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 2047 تک 50 ہزار ہیکٹر رقبے پر پھلوں کی کاشت کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کیلئے ای-نام پلیٹ فارم سے منسلک ہونے کے بعد نومبر 2025 تک 1680 کروڑ روپے سے زائد کی تجارت ریکارڈ کی گئی، جبکہ کولڈ اسٹوریج کی گنجائش کو بڑھانے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ موجودہ گنجائش 2.92 لاکھ میٹرک ٹن ہے جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 3.07 لاکھ میٹرک ٹن ہونے کی توقع ہے۔دوسری جانب فلوریکلچر کے شعبے میں معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اپریل سے نومبر 2025-26 کے دوران پھولوں کے کاشتکاروں کی آمدنی 42.92 کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.74 فیصد کم ہے۔ اسی طرح باغات اور پارکوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔محکمہ فلوریکلچر کے تحت 278 باغات اور پارکس زیر انتظام ہیں، جبکہ اس شعبے سے وابستہ 11,889 کاشتکاروں میں سے 2,270 تجارتی بنیادوں پر سرگرم ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جہاں ٹیولپ گارڈن موسم بہار کی پہچان بن چکا ہے، وہیں اکتوبر 2025 میں قائم کیا گیا باغِ گلِ داود مستقبل میں خزاں کے موسم میں سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔مجموعی طور پر اقتصادی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں باغبانی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، تاہم فلوریکلچر کے شعبے کو مستحکم کرنے کیلئے مزید توجہ اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔










